خیبر پختونخوا، حسن خیل میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام، 8 خوارجی ہلاک، پولیس کے 6 جوان شہید

خیبر پختونخوا، حسن خیل میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام، 8 خوارجی ہلاک، پولیس کے 6 جوان شہید

صوبائی دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی ایک بڑی اور خطرناک سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے بھاری ہتھیاروں سے لیس ہو کر فیڈرل کانسٹیبلری کی ایک اہم چیک پوسٹ پر قبضے کی نیت سے بڑا حملہ کیا، تاہم وہاں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس اسٹریٹجک پوسٹ پر قبضے کی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 8 خوارجی دہشتگرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 27 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ 9 جون 2026 کو حسن خیل کے علاقے میں واقع فیڈرل کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر کیا گیا۔

فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے اچانک پوسٹ کو چاروں طرف سے گھیر کر اندھا دھند فائرنگ شروع کی اور چوکی کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ڈیوٹی پر موجود فیڈرل کانسٹیبلری اور پولیس کے جوانوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔ عسکری ذرائع کے مطابق، جوانوں کی مؤثر فائرنگ کی وجہ سے حملہ آور پسپا ہونے پر مجبور ہوئے اور موقع پر ہی 8 خوارجی جہنم واصل ہو گئے۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے اضافی دستے جدید بکتر بند گاڑیوں اور فضائی مدد کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔

سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو سخت محاصرے میں لے کر مفرور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

 انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس شدید لڑائی کے دوران مٹی کے بیٹوں نے بہادری کی نئی داستان رقم کی اور پولیس کے 6 جوان جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ حملے کے بعد سے کچھ جوان ابھی تک لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو اور سرچ ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں۔

مزید پڑھیں:بلوچستان،سیکورٹی فورسز نے دہشتگردو ں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا ،فتنہ الہندوستان کے 12 دہشتگرد جہنم واصل

پشاور کا سرحدی علاقہ حسن خیل جغرافیائی لحاظ سے انتہائی حساس پوزیشن پر واقع ہے، جو قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی علاقوں کے درمیان ایک راہداری کا کام کرتا ہے۔

فتنہ الخوارج گزشتہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور فرنٹیر کانسٹیبلری کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کرتے رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت نے باضابطہ طور پر ان دہشت گردوں کو ‘فتنہ الخوارج’ کا نام دیا ہے تاکہ ان کے اسلام اور ریاست مخالف نظریات کو بے نقاب کیا جا سکے۔

ماضی میں بھی دہشت گردوں کی یہ حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ دور افتادہ عسکری چوکیوں پر حملہ کر کے ان کا کنٹرول حاصل کرنے کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں تاکہ پروپیگنڈا اور نفسیاتی برتری حاصل کی جا سکے۔

فیڈرل کانسٹیبلری اور خیبر پختونخوا پولیس اس فرنٹ لائن پر صوبے کے دفاع کی پہلی دفاعی لائن ہیں، جو اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دے رہی ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب فورسز نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر رکھے ہیں۔

Related Articles