پنجاب میں مستحق خواتین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے حکومتی اقدام میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت خواتین کے لیے آمدنی کی شرط میں نرمی کی تجویز دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ 50 ہزار روپے سے کم آمدنی کی شرط سے مستحق خواتین کو استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد فیملی اور دیگر قانونی کیسز میں زیادہ خواتین مفت قانونی امداد حاصل کر سکیں گی۔
حکومت پنجاب کو اس حوالے سے سمری منظوری کے لیے ارسال کر دی گئی ہے، مجوزہ فیصلے کے تحت وہ خواتین بھی قانونی معاونت حاصل کر سکیں گی جو پہلے آمدنی کی حد کی وجہ سے اس سہولت سے محروم رہتی تھیں۔
تاہم حکام کے مطابق عمومی پالیسی کے تحت یہ امداد ان افراد اور خواتین کو فراہم کی جائے گی جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے کم ہو۔
ادھر قانونی امداد کے اس پروگرام کے تحت سیشن کورٹ میں اب تک تقریباً ساڑھے 3 سو درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اس سہولت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مستحقین کی درست نشاندہی اور شفافیت کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، مجموعی طور پر یہ اقدام فوری ریلیف کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں واضح ہوں گے۔