خانہ کعبہ کے حوالے سے فلکیاتی ماہرین نے ایک حیران کن واقعے کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں برس عیدالاضحیٰ کے دن سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک منفرد فلکیاتی لمحہ ہوگا جو تقریباً 33 سال میں صرف ایک بار دیکھنے کو ملتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اس روز سورج اپنی عمودی پوزیشن میں براہِ راست بیت اللہ کے اوپر ظاہر ہوگا تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس صورتحال کا کسی غیر معمولی ہیٹ ویو یا خطرناک موسمی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے جو مخصوص حسابات اور زمین و سورج کی گردش کے باعث وقوع پذیر ہوتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق سورج کے عین خانہ کعبہ کے اوپر آنے کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود مسلمان بغیر کسی جدید آلے یا قطب نما کے قبلہ رخ کا درست تعین کر سکیں گے۔ اس طریقہ کار کے تحت مقررہ وقت پر سورج کی سمت کو دیکھ کر قبلے کا رخ معلوم کیا جا سکے گا ۔
دنیا بھر کے مسلمان مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق سورج کا مشاہدہ کریں گے اور جس سمت میں سورج نظر آئے گا وہی درست قبلہ شمار ہوگا۔ اس موقع کو ماہرین نہ صرف سائنسی اعتبار سے اہم قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے روحانی اور مذہبی لحاظ سے بھی غیر معمولی لمحہ تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ قبلہ رخ کے تعین کے لیے ماضی میں بھی سورج اور ستاروں کی مدد لی جاتی رہی ہے تاہم جدید دور میں ڈیجیٹل آلات اور موبائل ایپلی کیشنز نے یہ عمل آسان بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سورج کا عین خانہ کعبہ کے اوپر آنا ایک ایسا فلکیاتی واقعہ سمجھا جاتا ہے جسے ماہرین اور مسلمان خصوصی دلچسپی سے دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ قدرتی انداز میں قبلے کے درست رخ کی نشاندہی کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔