ایرانی حملوں کے بعد امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے ارادے سے آگاہ کیا تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایسی کسی کارروائی میں امریکا عملی طور پر شریک نہیں ہوگا۔
دریں اثنا، برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا پائیدار حل ایران کے ساتھ معاہدے میں ہے اور ان کے خیال میں اسرائیلی قیادت کے پاس بھی بالآخر سفارتی راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی بہتر متبادل نہیں ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے حالیہ حملوں کے باوجود امریکا کی جانب سے مذاکرات مکمل کرنے کی خواہش برقرار ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اب بھی کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو مختلف آپشنز زیر غور آ سکتے ہیں جن میں محدود نوعیت کی خصوصی کارروائیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے جبکہ عالمی برادری دونوں فریقوں سے تحمل اور سفارتی حل کی اپیل کر رہی ہے۔