پنجاب حکومت نے بیرون ملک خصوصاً سعودی عرب میں ملازمت حاصل کرنے والے ہنرمند افراد کے لیے ’پرواز کارڈ‘ پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اہل امیدواروں کو بیرون ملک روانگی سے قبل درکار تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد ایسے ہنرمند افراد کی مالی معاونت کرنا ہے جنہیں بیرون ملک ملازمت کی پیشکش تو مل چکی ہو، مگر سفری اور دیگر ابتدائی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔
’نرس ثمیرہ مورس کو بھی ’پرواز کارڈ‘ سے سعودی عرب جانے کا موقع مل گیا
لاہور کے سروسز اسپتال کے ڈائیلاسز وارڈ میں تقریباً 2 دہائیوں تک خدمات انجام دینے والی 45 سالہ نرس ثمیرہ مورس بھی ’پرواز کارڈ‘ پروگرام سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
5 بچوں کی ماں ثمیرہ مورس کے مطابق شوہر کی پیچیدہ دل کی بیماری کے باعث گھریلو مالی حالات شدید متاثر ہوئے، جبکہ بیرون ملک ملازمت کے باوجود بھرتی اور سفر کے اخراجات ان کے لیے بڑی رکاوٹ تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ’پرواز کارڈ‘ کے ذریعے انہیں تربیت فراہم کی گئی اور اب وہ ریاض کے ایک اسپتال میں ملازمت کے لیے روانگی کی تیاری مکمل کر چکی ہیں، جہاں انہیں ماہانہ 3 ہزار سعودی ریال تنخواہ ملے گی، جو پاکستان میں ان کی سابقہ تقریباً ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ثمیرہ مورس کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک ہنرمند پاکستانیوں کی صلاحیتوں کو بھی بہتر انداز میں اجاگر کرے گا۔
بلاسود قرض سے تمام ضروری اخراجات پورے کیے جا سکیں گے
پنجاب کے وزیراعلیٰ ٹاسک فورس برائے اسکلز ڈویلپمنٹ کے چیئرمین عدنان افضل چٹھہ کے مطابق ’پرواز کارڈ‘ کے ذریعے فضائی ٹکٹ، بیرون ملک بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی فیس، طبی معائنے، سعودی عرب کے لازمی ’تکامل‘ اسکل ویری فکیشن ٹیسٹ سمیت دیگر ضروری اخراجات کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس قرض سے ضرورت کی ذاتی اشیا، مثلاً لباس کی خریداری بھی ممکن ہوگی۔
تربیتی نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے
عدنان افضل چٹھہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے فنی تربیت کے نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے جدید تعمیراتی لیبارٹریاں، بھاری مشینری چلانے کے تربیتی مراکز اور خصوصی ہیلتھ کیئر اکیڈمیز قائم کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی آجرین کا اعتماد بڑھانے کے لیے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے، جبکہ یورپی، برطانوی اور آسٹریلوی اداروں کے تعاون سے اسناد کی دوہری تصدیق کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
3 برس میں 45 ہزار ہنرمند افراد بیرون ملک بھیجنے کا منصوبہ
چیئرمین ٹاسک فورس کے مطابق آئندہ 3 برسوں میں تقریباً 45 ہزار ہنرمند افراد کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’پرواز کارڈ‘ سے مستفید ہونے والے پہلے 135 افراد بیرون ملک روانہ ہونا شروع ہو چکے ہیں، جن میں 90 فیصد سے زیادہ سعودی عرب جا رہے ہیں اور ان کی اکثریت مہمان نوازی اور تعمیراتی شعبوں میں خدمات انجام دے گی۔
عدنان افضل چٹھہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘ کے تحت درکار ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
نوجوانوں کو عالمی منڈی کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 برس سے کم عمر تقریباً 12 کروڑ نوجوان موجود ہیں، جنہیں عالمی مارکیٹ، بالخصوص سعودی عرب کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں بہتر روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔
شیف اسامہ فاروق بھی سعودی عرب روانگی کے لیے تیار
لاہور کی ایک بیکری چین میں برانچ منیجر کے طور پر کام کرنے والے 24 سالہ شیف اسامہ فاروق نے بھی ’پرواز کارڈ‘ حاصل کر لیا ہے اور وہ سعودی شہر دمام میں ملازمت سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع سے نہ صرف ان کے کیریئر میں نمایاں ترقی ہوگی بلکہ وہ اپنے خاندان کی بہتر مالی معاونت بھی کر سکیں گے۔
خاندانوں نے حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دے دیا
ثمیرہ مورس کے شوہر محمد راشد نے پنجاب حکومت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا اور اس سے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
سعودی ملازمت سے زندگی بدلنے کی امید
ثمیرہ مورس نے کہا کہ سعودی عرب جانا ان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ روحانی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ سرزمین حرمین شریفین کی میزبانی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ تنخواہ سے گھریلو ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل تھا، تاہم سعودی عرب میں ملنے والی بہتر آمدنی سے وہ اپنے خاندان کی مالی ضروریات کہیں زیادہ بہتر انداز میں پوری کر سکیں گی۔