ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان حتمی جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے کے لیے پیش رفت جاری ہے اور دونوں ممالک اپنے مؤقف میں لچک دکھاتے نظر آ رہے ہیں، تو دوسری جانب امریکا نے ایران پر ایک اور بڑا معاشی وار کرتے ہوئے اس کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا نے ایران سے منسلک ایک ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد پابندیوں اور معاشی دباؤ سے متعلق اقدامات میں نرمی مرحلہ وار کی جائے گی اور تمام پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں ہوں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار دکھ
کائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے اور امریکی بحری جہازوں کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی مذاکراتی عمل میں نسبتاً نرم مؤقف اپنایا ہے اور مختلف معاملات پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور جامع معاہدے کے امکانات پر عالمی سطح پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔
تاہم تازہ معاشی اقدام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق کرپٹو اثاثوں کی ضبطی امریکا کی جانب سے یہ پیغام ہے کہ مذاکرات اور معاشی دباؤ کی پالیسی بیک وقت جاری رکھی جائے گی۔
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں بیک وقت مفاہمت اور دباؤ کی حکمت عملی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایک طرف جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی پر بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف معاشی محاذ پر سخت اقدامات بھی جاری ہیں۔