امریکی سانئسدانوں کی پر اسرار گمشد گی ، وائٹ ہائوس میں ہلچل مچ گئی

امریکی سانئسدانوں کی پر اسرار گمشد گی ، وائٹ ہائوس میں ہلچل مچ گئی

امریکا میں خلائی، دفاعی اور جوہری تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے جبکہ ان واقعات کو غیر شناخت شدہ اڑنے والی اشیا (یو ایف اوز) اور خفیہ سازشوں سے جوڑنے والے دعوؤں نے معاملے کو وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس تک پہنچا دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ متعدد سائنسدانوں کی گمشدگیوں اور اموات کے درمیان ممکنہ تعلق ہو سکتا ہے۔ ان دعوؤں نے ابتدا میں سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کی تاہم بعد ازاں مختلف آن لائن پروگراموں، پوڈکاسٹس اور بعض میڈیا حلقوں میں بھی اس موضوع پر بحث شروع ہو گئی۔

معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب ایک صحافی نے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران ان واقعات سے متعلق سوال اٹھایا جس کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

 یہ بھی پڑھیں :وائٹ ہائوس کے باہرفائرنگ،سیکرٹ سروس اہلکار الرٹ، علاقے کی ناکہ بندی، امریکی میڈیا

رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ میجر جنرل نیل میک کاسلینڈ رواں برس فروری میں نیو میکسیکو میں اپنے گھر سے لاپتا ہوگئے تھے۔ وہ جدید خلائی اور دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں پر کام کر چکے تھے جس کے باعث ان کی گمشدگی مختلف قیاس آرائیوں کا مرکز بن گئی۔

اسی طرح مختلف رپورٹس میں ناسا، فلکیات اور طبیعیات کے شعبوں سے وابستہ دیگر سائنسدانوں کے نام بھی زیر بحث لائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں نے ان واقعات کو خفیہ سرگرمیوں یا بیرونی مداخلت سے جوڑنے کی کوشش کی ہے جبکہ کچھ افراد نے یو ایف اوز سے متعلق نظریات کو بھی ہوا دی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر کی زیر صدارت قومی سلامتی کا اہم اجلاس،ایران کی تجاویز پر غور کیا گیا ، ترجمان وائٹ ہائوس

دوسری جانب مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات صرف دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور فی الحال کسی مخصوص نظریے یا امکان کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب بعض امریکی قانون سازوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے، خلائی ادارے اور دیگر متعلقہ محکموں سے ان واقعات کے ممکنہ اسباب اور روابط کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی جو ان تمام واقعات کو آپس میں منسلک ثابت کر سکے۔

editor

Related Articles