وائٹ ہائوس کے باہرفائرنگ،سیکرٹ سروس اہلکار الرٹ، علاقے کی ناکہ بندی، امریکی میڈیا

وائٹ ہائوس کے باہرفائرنگ،سیکرٹ سروس اہلکار الرٹ، علاقے کی ناکہ بندی، امریکی میڈیا

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کی اطلاعات کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے اور علاقے کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

 امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد صحافیوں اور ذرائع نے 20 سے 30 گولیوں کی آوازیں سنے جانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد سیکرٹ سروس نے فوری طور پر میڈیا نمائندوں کو وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم میں منتقل کر دیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

امریکی نشریاتی اداروں نے بھی فائرنگ کی آوازوں کی تصدیق سے متعلق رپورٹس نشر کی ہیں ،دوسری طرف فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکرٹ  سروس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ  کرکے حملہ آور کو مار دیا ہے، سی این این  کے مطابق فائرنگ کے واقعہ میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ،امریکی حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور صورتحال کے بارے میں مزید معلومات متوقع ہیں جبکہ فائرنگ کی آوازوں خاتون صحافی کے گھبرا کر بھاگنے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے ۔

ادھر  وائٹ ہاؤس کے اطراف فائرنگ کی اطلاعات کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور پورے علاقے کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کس نے کی اور اس کی وجوہات کیا تھیں ابتدائی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ فائرنگ کے بعد سیکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے اور وائٹ ہاؤس کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا جبکہ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے نارتھ لان میں موجود صحافیوں کو فوری طور پر پریس بریفنگ روم میں منتقل کر دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

editor

Related Articles