امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران کی جانب سے دی گئی تجاو یز ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے کی سیکیورٹی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ترجمان وائٹ ہائوس کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی جانب سے سامنے آنے والی تجویز پر غور جاری ہے تاہم امریکہ کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھے گا۔
کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے معاملے پر “ریڈ لائنز” پہلے سے طے ہیں اور ان میں کسی قسم کی نرمی کا عندیہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں استحکام چاہتا ہے، لیکن کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا جو عالمی تجارتی راستوں یا اتحادی ممالک کے مفادات کے خلاف ہو۔
یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر نے جنگ بندی کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دی ،ترجمان وائٹ ہائوس
ترجمان نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور اتحادیوں سے بھی مشاورت جاری ہے تاکہ کسی بھی اقدام کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی سیکیورٹی اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بریفنگ کے دوران ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی اور حالیہ فائرنگ کے واقعے کو ایک سنگین حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی انتظامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے اور اعلیٰ سطح پر اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق صدر کی عوامی تقریبات اور سرکاری مصروفیات کے دوران حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

