تامل ناڈو میں اداکار سیاست دان کیوں بنتے ہیں؟

تامل ناڈو میں اداکار سیاست دان کیوں بنتے ہیں؟

بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں  تامل اداکارجوزف وجے کی سیاسی کامیابی تامل ناڈوکی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں ۔  فلمی دنیا سے سیاست تک کا سفرتامل ناڈو میں ایک پرانی روایت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاست نے متعدد ایسے سپر اسٹارز دیکھے ہیں جنہوں نے پردۂ سیمیں پر مقبولیت حاصل کرنے کے بعد سیاسی میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔

اس روایت کی بنیاد معروف اداکار اور سیاست دان ایم جی رام چندرن (ایم جی آر) نے رکھی، جنہیں تامل سیاست میں ایک تاریخی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ فلموں میں غریبوں کے ہمدرد اور انصاف پسند کردار ادا کرنے والے ایم جی آر نے عوام کے دلوں میں گہری جگہ بنائی، جس کا فائدہ انہیں سیاست میں بھی ملا۔

آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (AIADMK) کے بانی ایم جی آر 1977 سے 1987 تک تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ رہے اور انہوں نے فلمی ستاروں کے سیاست میں کامیاب داخلے کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔

یہ بھی پڑھیں:سری دیوی کی یاد میں جھانوی کپور کا جذباتی بیان سامنے آگیا

اسی دوران ایک اور اہم شخصیت ایم کروناندھی بھی منظر پر موجود تھے، جنہوں نے بطور اداکار نہیں بلکہ اسکرین رائٹر اور مصنف اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے فلموں کو سیاسی نظریات اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا اور بعد ازاں کئی بار تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

بعد ازاں جے للیتا نے اس روایت کو مزید مضبوط کیا۔ فلمی دنیا کی معروف اداکارہ جے للیتا، جو ابتدا میں ایم جی آر کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی تھیں، بعد میں خود تامل ناڈو کی طاقتور ترین سیاسی رہنماؤں میں شامل ہو گئیں۔ انہوں نے متعدد بار وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا اور ثابت کیا کہ فلمی شہرت سیاسی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کنزہ ہاشمی نے اپنی زندگی کا خوفناک راز کھول دیا

تامل ناڈو تک محدود نہ رہتے ہوئے یہ رجحان پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی دیکھا گیا، جہاں لیجنڈری اداکار این ٹی راما راؤ نے اپنی غیر معمولی مقبولیت کے بل بوتے پر تلگو دیشم پارٹی قائم کی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی بھارت میں فلمی ستاروں کی سیاسی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام انہیں صرف اداکار نہیں بلکہ انصاف، قیادت اور سماجی امید کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلمی مداحوں کے کلب وقت کے ساتھ مضبوط سیاسی نیٹ ورکس میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو انتخابی مہمات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

editor

Related Articles