بجٹ سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،صارفین پریشان

بجٹ سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،صارفین پریشان

وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ہی سولر توانائی کے شعبے سے وابستہ صارفین کے لیے ایک تشویشناک صورتحال سامنے آ گئی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سولر پینلز کی فی پلیٹ قیمت میں7ہزار سے9 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، قیمتوں میں اضافے کے بعد ۵۸۵ واٹ کا سولر پینل، جو پہلے تقریباً18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 27 ہزار روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔

سولر مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل ممکنہ نئے ٹیکسوں، درآمدی پالیسیوں میں تبدیلیوں اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں میں یہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں :گھروں کے لیے مفت سولر سسٹم منصوبے کی منظوری

دوسری جانب سولر سسٹم لگوانے کے خواہشمند صارفین نے قیمتوں میں اچانک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچنے کے لیے سولر توانائی ایک بہترین متبادل سمجھی جا رہی تھی، لیکن موجودہ صورتحال نے اس منصوبے کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سولر توانائی کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بجلی کے بلند نرخ اور لوڈشیڈنگ کے مسائل ہیں۔

editor

Related Articles