کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن، حسن علی نے ٹی20 میں نیا ریکارڈ بنا لیا

کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن، حسن علی نے ٹی20 میں نیا ریکارڈ بنا لیا

پاکستان کے مایہ ناز اور تجربہ کار فاسٹ باؤلر حسن علی نے ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کر دیا ہے۔

انگلینڈ میں جاری ڈومیسٹک ٹی 20 ٹورنامنٹ ’وائٹیلیٹی بلاسٹ‘ میں لیسٹر شائر کے خلاف کھیلے گئے ایک سنسنی خیز میچ کے دوران انہوں نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف 4 وکٹیں حاصل کیں، بلکہ ٹی 20 کرکٹ میں تیز ترین 350 وکٹیں مکمل کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔

اس تاریخی کامیابی کے بعد دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں، سابق کرکٹرز اور کرکٹ شائقین کی جانب سے قومی باؤلر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

ریکارڈ توڑ کارکردگی اور راشد خان کو شکست

حسن علی نے یہ عظیم کارنامہ لیسٹر شائر کے خلاف میچ کے دوران انتہائی شاندار باؤلنگ اسپیل کے ذریعے انجام دیا۔ انہوں نے اس اہم میچ میں مخالف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرتے ہوئے 4 اہم کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11: حسن علی کی تباہ کن بولنگ، کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 14 رنز سے ہرا دیا

اس میچ کے دوران جیسے ہی انہوں نے اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی، وہ ٹی 20 کرکٹ میں تیز ترین 350 وکٹوں کا سنگِ میل عبور کرنے والے دنیا کے پہلے باؤلر بن گئے۔

حسن علی نے یہ اعزاز صرف 243 میچز کھیل کر حاصل کیا اور اس طرح انہوں نے افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر راشد خان کا ریکارڈ باآسانی پامال کر دیا۔

راشد خان نے یہ کارنامہ 251 میچز کھیل کر انجام دیا تھا، تاہم اب حسن علی 8 میچز کے واضح فرق کے ساتھ اس فہرست میں دنیا کے تیز ترین باؤلر بن چکے ہیں۔

حسن علی کا کیریئر اور ماضی کے بڑے کارنامے

حسن علی کی کرکٹ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو وہ ہمیشہ سے پاکستان کے لیے بڑے میچوں کے کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا یہ نیا ریکارڈ ان کی برسوں کی محنت اور ٹی 20 فارمیٹ میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چیمپئنز ٹرافی 2017 کے ہیرو

حسن علی کو عالمی سطح پر سب سے بڑی پہچان 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے ملی، جہاں انہوں نے اپنی شاندار سوئنگ اور یارکرز کی بدولت پاکستان کو پہلی بار یہ ٹرافی جتوائی۔ وہ اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی ٹورنامنٹ) اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ٹھہرے تھے۔

جنریٹر سیلیبریشن

میدان میں وکٹ لینے کے بعد ان کا روایتی انداز، جسے کرکٹ کی دنیا میں ’جنریٹر اسٹائل‘ کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے شائقین میں بے حد مقبول ہے اور لیسٹر شائر کے خلاف میچ میں بھی یہ جوش و خروش عروج پر دیکھا گیا۔

عالمی لیگز میں ڈیمانڈ

وہ نہ صرف پاکستان سپر لیگ بلکہ دنیا کی تمام بڑی ٹی 20 لیگز بشمول انگلش کاؤنٹی، لنکا پریمیئر لیگ اور دیگر ایونٹس میں اپنی بہترین باؤلنگ کا لوہا منوا چکے ہیں۔

حسن علی کی کامیابی کا راز

ٹی 20 کرکٹ کو عام طور پر بلے بازوں کا فارمیٹ سمجھا جاتا ہے جہاں بلے بازوں کو پچز اور قوانین کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی فاسٹ باؤلر کے لیے 243 میچز میں 350 وکٹیں لینا ایک غیر معمولی اور حیران کن کامیابی ہے۔

مزید پڑھیں:وسیم اکرم نے جمرات کو بھی کرکٹ گراؤنڈبنادیا، شیطان کو مخصوص ایکشن میں کنکریاں دے ماریں، ویڈیو وائرل

حسن علی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کا ‘ڈیتھ اوورز’ (میچ کے آخری اوورز) میں باؤلنگ کرنے کا ہنر ہے۔ وہ اننگز کے آخری حصوں میں پرانی گیند سے بہترین ریورس سوئنگ کرتے ہیں اور ان کے پاس دھیمی رفتار کی گیند (سلوئر ون) پھینکنے کی ایسی مہارت ہے جو بلے بازوں کو دھوکا دہی میں مبتلا کر دیتی ہے۔

اسپنرز کے مقابلے میں فاسٹ باؤلرز کے لیے ٹی 20 میں فٹ رہنا اور مسلسل وکٹیں لینا زیادہ مشکل ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک اسپنر (راشد خان) کا ریکارڈ توڑ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اس فارمیٹ کے خطرناک ترین ہتھیار ہیں۔ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ان کی یہ کارکردگی ان کے بین الاقوامی کیریئر کے لیے بھی ایک بہترین ٹانک ثابت ہوگی۔

Related Articles