پنجاب حکومت 16 جون کو اپنا تیسرا بجٹ پیش کرے گی، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا

پنجاب حکومت 16 جون کو اپنا تیسرا بجٹ پیش کرے گی، کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا

پنجاب حکومت 16 جون کو اپنا تیسرا بجٹ پیش کرے گی، جبکہ گزشتہ دو بجٹس کی طرح اس بار بھی عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے محکمہ خزانہ پنجاب کے زیر اہتمام منعقدہ پری بجٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری عوامی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے آئندہ بجٹ میں صنعتی بنیادی ڈھانچے پر خصوصی سرمایہ کاری کرے گی۔

بجٹ سازی میں تمام شعبوں کی شمولیت

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بجٹ سے قبل تمام متعلقہ شعبوں اور فریقین کو اپنے مسائل اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی بجٹ تشکیل دیا جا سکے۔

پری بجٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں بین الاقوامی معاون اداروں، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ماہرین تعلیم، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، زرعی تنظیموں، ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دو سالہ کارکردگی پر بریفنگ

صوبائی وزیر خزانہ نے شرکاء کو پنجاب حکومت کی گزشتہ دو سالہ کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کسی حکومت نے اپنے اعلان کردہ تمام منصوبوں پر عملی کام کا آغاز کیا اور متعدد منصوبے مکمل بھی کیے،انہوں نے اپنا گھر اپنی چھت ،  ستھرا پنجاب ، کسان کارڈ  اور  رمضان نگہبان پیکیج  کو پنجاب حکومت کے فلیگ شپ پروگرام قرار دیا۔

اپنا گھر اپنی چھت پروگرام

انہوں نے بتایا کہ  اپنا گھر اپنی چھت  پروگرام کے تحت اب تک ایک لاکھ 33 ہزار 990 ہاؤسنگ قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ عوام کو سستی رہائش کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات بھی جاری ہیں۔

ستھرا پنجاب پروگرام کا دائرہ کار وسیع

وزیر خزانہ کے مطابق ’’ستھرا پنجاب‘‘ پروگرام کا دائرہ کار ضلعی اور تحصیل سطح سے بڑھا کر دیہی علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال اس پروگرام کے لیے 106 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ رواں مالی سال کے دوران 99 ارب 41 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے بقول عیدالاضحیٰ کے دوران صفائی کے مؤثر انتظامات اس پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔

سیلاب اور مالی مشکلات کا سامنا

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ گزشتہ مالی سال وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کے لیے آسان نہیں تھا۔ پنجاب کو صدی کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس سے 27 اضلاع متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پہلی مرتبہ کسی صوبائی حکومت نے وفاقی معاونت کے بغیر اپنے وسائل سے متاثرین کی بحالی یقینی بنائی اور تقریباً 50 ارب روپے کی امداد تقسیم کی۔

اخراجات میں کمی اور عوامی ریلیف

صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے سرکاری سطح پر ایندھن کے اخراجات میں 50 فیصد تک کمی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز نے دو ماہ کی تنخواہیں وصول نہیں کیں جبکہ دیگر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔

ان کے مطابق دو لاکھ 20 ہزار موٹر سائیکل مالکان کو ایندھن کے اخراجات میں کمی کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی جبکہ دو لاکھ 26 ہزار کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے امداد دی گئی۔ عام شہریوں کو مفت سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

نئے ٹیکس نہیں، ٹیکس نیٹ میں توسیع ترجیح

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے واضح کیا کہ 13 کروڑ آبادی کے مسائل کے حل کے لیے موجود وسائل ناکافی ہیں، تاہم اس کے باوجود حکومت عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وسائل میں اضافے کے لیے ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ، صنعت کاری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

آئندہ بجٹ میں صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ

صوبائی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں اقتصادی زونز اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام صنعتوں کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنانے کی یقین دہانی

انہوں نے کانفرنس میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، میڈیا، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ یہاں پیش کی جانے والی تجاویز کو حتیٰ المقدور آئندہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مزید اعلان کیا کہ آئندہ برس پری بجٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس مئی میں منعقد کی جائے گی تاکہ تمام متعلقہ شعبوں سے بروقت تجاویز حاصل کر کے انہیں بجٹ سازی کے عمل میں شامل کیا جا سکے۔

editor

Related Articles