وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کے ساتھ پٹرولیم لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر عائد لیوی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم لیوی میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے پیٹرول پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد لیوی میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پیٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 91 روپے 34 پیسے سے بڑھ کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبے کو ریلیف دینے کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل پر نئی لیوی 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق دیگر پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ مٹی کے تیل پر عائد پٹرولیم لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (LDO) پر 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ مہنگے اور ہائی پرفارمنس ایندھن ’’ایچ او بی سی‘‘ پر 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر کی بھاری لیوی بدستور عائد رہے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ڈیزل پر لیوی میں کمی کا مقصد ملک میں مال برداری کے اخراجات اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنا ہے، تاہم پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کر کے حکومت اپنے آمدنی کے اہداف پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔