قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر کی ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی کے فیصلے کی بھرپور حمایت

قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر کی ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی کے فیصلے کی بھرپور حمایت

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر اور قانون ساز اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) شاہ غلام قادر نے حکومت کی جانب سے ‘عوامی ایکشن کمیٹی’ پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی کھل کر اور بھرپور حمایت و تائید کر دی ہے۔

اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی بقا، سلامتی اور عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایسے سخت اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے وسیع تر مفاد میں یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔

مذاکرات کی ناکامی اور کمیٹی کا غیر لچکدار رویہ

شاہ غلام قادر نے اپنے بیان میں ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ‘عوامی ایکشن کمیٹی’ نے اس سے پہلے بھی 3 بار مختلف نوعیت کے مطالبات کے ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کیا تھا، اور ہر مرتبہ حکومت اور ریاست نے انتہائی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے مطالبات کے ذریعے حالات کو بہتر اور پرامن انداز میں سنبھالا تھا۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اس بار بھی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر مذاکرات کے متعدد دور ہوئے اور کمیٹی کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم بھی کیا گیا، لیکن اس سب کے باوجود کمیٹی کی قیادت کی جانب سے کوئی مثبت حل نکالنے کے بجائے ہٹ دھرمی دکھائی گئی، جس کے بعد حکومت کے پاس اس پابندی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

شرپسند عناصر ناکام، امن و امان قابو میں

آزاد جموں کشمیر بھر میں موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ خطے کے دشمن اور کچھ شرپسند عناصر کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کے باوجود اس وقت آزاد کشمیر بھر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور فضا پرامن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 اہم لیڈرز و ممبران آزاد کشمیر پولیس کی حراست میں

شاہ غلام قادر نے سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس ترین خطہ ہے اور یہاں کسی بھی فرد یا تنظیم کو قانون ہاتھ میں لینے، خطے کا امن خراب کرنے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو مفلوج کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ‘عوامی ایکشن کمیٹی’ کی جانب سے سستے آٹے کی فراہمی، بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کے خاتمے اور دیگر عوامی مطالبات کو لے کر بھرپور احتجاجی تحریکیں چلائی جا رہی تھیں۔

سال 2024 اور سال 2025 کے دوران ان احتجاجی مظاہروں اور پہیہ جام ہڑتالوں کے باعث مظفر آباد، راولاکوٹ اور میرپور سمیت متعدد شہروں میں کاروبارِ زندگی شدید متاثر ہوا اور امن و امان کے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔

ریاستی عملداری برقرار رکھنے کا عزم

حکومت نے ماضی میں اربوں روپے کے امدادی پیکجز کا اعلان کر کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی، تاہم حالیہ دنوں میں کمیٹی کی جانب سے دوبارہ احتجاج کی کالز اور مذاکرات میں تعطل کے بعد حکومت نے ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر اس پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی ہے۔

مظفر آباد کے سیاسی ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کی جانب سے حکومتی فیصلے کی تائید کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ خطے کی سیکیورٹی اور رٹ آف دی اسٹیٹ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک پیج پر ہیں۔ مزید معلومات کے مطابق پابندی کے بعد آزاد کشمیر کے تمام 10 اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور اہم شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردِعمل یا احتجاج کو روکا جا سکے۔

مزید پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی ڈوریاں بھارت سے کنٹرول ہو رہی ہیں، تجزیہ کار ڈاکٹر قادر بلوچ

ضلعی انتظامیہ نے تمام شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت 5 سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے اور کسی بھی قسم کے جلسے جلوس پر مکمل پابندی رہے گی۔

اگر اس سیاسی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کا یہ بیان آزاد کشمیر کے سیاسی کلچر میں ایک غیر معمولی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کا احتجاج ریاستی ڈھانچے کے لیے خطرہ بنتا جا رہا تھا

عام طور پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ایسے سخت اور پابندی جیسے فیصلوں کی مخالفت کرتی ہیں تاکہ عوامی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں، لیکن شاہ غلام قادر کا حکومت کا ساتھ دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی سرگرمیاں اب روایتی احتجاجی دائرے سے نکل کر ریاست کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک مستقل خطرہ بنتی جا رہی تھیں۔

ان کا یہ کہنا کہ کمیٹی نے پہلے بھی 3 بار ایسا کیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی اشرافیہ اب اس بات پر متفق ہو چکی ہے کہ عوامی مطالبات کے نام پر بننے والی یہ غیر سیاسی کمیٹیاں دراصل منتخب پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کے متبادل کے طور پر ابھر رہی تھیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے ایک چیلنج ہے۔

حکومت نے مطالبات ماننے کے باوجود حل نہ نکلنے کو پابندی کا جواز بنایا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریاست احتجاجی گروپوں کو مزید بلیک میلنگ کا موقع نہیں دے گی۔ یہ بات اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت ‘عوامی ایکشن کمیٹی’ کے خلاف مزید سخت قانونی اور عسکری کریک ڈاؤن کر سکتی ہے، کیونکہ اسے اب اپوزیشن کی مکمل سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو چکی ہے۔

Related Articles