یوکرین میں جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اب میدانِ جنگ میں روبوٹک گاڑیوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ یوکرینی فوج نے ایسے بغیر عملے کے زمینی روبوٹس (UGVs) کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کر دی ہے جو نہ صرف سامان پہنچا سکتے ہیں بلکہ مشین گنوں سے لیس ہو کر دشمن کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق یوکرین نے حال ہی میں ’’لیجٹ‘‘ نامی کم لاگت روبوٹ کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز کیا ہے۔ یہ روبوٹ مشین گن سے لیس ہے اور اسے دور بیٹھا آپریٹر کنٹرول کرتا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بعض محاذوں پر ایک تہائی پیدل فوج کی جگہ ایسے روبوٹ تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگی میدان میں ایسے نظام اس لیے اہم ہیں کیونکہ یہ انسانی جانوں کو خطرے سے بچاتے ہیں۔ اگرچہ یہ روبوٹس مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں بن سکتے، تاہم خطرناک علاقوں میں ان کا استعمال فوجی نقصانات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
یوکرینی فوجی کمانڈرز کا دعویٰ ہے کہ ایک موٹر سائیکل کے حجم کا روبوٹک نظام مسلسل 45 دن تک فرنٹ لائن پر موجود رہا اور اس دوران روسی حملوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ اس دوران کسی فوجی کو اس مورچے میں تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ روبوٹ کو صرف بیٹری تبدیل کرنے اور گولہ بارود بھرنے کے لیے واپس لایا جاتا تھا۔
یوکرین نے 2024 میں دنیا کا پہلا مکمل روبوٹک حملہ بھی کیا تھا، جس میں تمام حملہ آور یونٹ بغیر انسانی موجودگی کے کام کر رہے تھے۔ اگرچہ چند روبوٹس راستے میں پھنس گئے، لیکن آپریشن اپنے ہدف کے حصول میں کامیاب رہا۔
صدر ولادن میرزی نیسکی نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ 2026 کے دوران 50 ہزار روبوٹک زمینی گاڑیاں تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد فوجیوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ روبوٹس نسبتاً سادہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، لیکن مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودمختار جنگی نظام میدانِ جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ اخلاقی اور قانونی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں، کیونکہ ایسی مشینیں انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یوکرین میں روبوٹک جنگی نظاموں کا تجربہ مستقبل کی جنگوں کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیاب رہے تو آنے والے برسوں میں روایتی فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ روبوٹ سپاہی بھی جنگی حکمت عملی کا مستقل حصہ بن سکتے ہیں۔