حکومتِ آزاد جموں کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) سے متعلق احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات کے حوالے سے جاری سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے درج تمام سابقہ ایف آئی آر بحال کر دی ہیں۔
محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے مختلف فوجداری عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات سے متعلق 4 سابقہ نوٹیفکیشنز واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس کا فیصلہ 5 جون 2026 کو ہونے والے کابینہ کے 41 ویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔
اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے کالعدم تنظیم جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ جے اے اے سی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہ کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی آئندہ کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ معاہدوں کے نتیجے میں واپس لی گئی ایف آئی آرز کو معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف درج 177 مقدمات، جو چند ماہ قبل مذاکرات کے نتیجے میں واپس لیے گئے تھے، ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے حالیہ جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی قانونی ذمہ داری تنظیم کی قیادت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
حکومتی ذرائع نے مزید کہا کہ اب کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور متعلقہ افراد کو ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تازہ پیش رفت کو حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے کالعدم تنظیم کے خلاف سخت ترین مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سیاسی و سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔