مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں2کروڑ 50لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ

مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں2کروڑ 50لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق5 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں2کروڑ 50لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا، اس اضافے کے بعد سٹیٹ بینک کے ذخائر17ارب21 کروڑ 54 لاکھ امریکی ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی، رپورٹ کے مطابق کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک ارب دس کروڑ ڈالر کے اضافے کے بعد5 ارب45 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو بینکاری شعبے میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی مضبوط پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر تین کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس اضافے کے بعد پاکستان کے کل زرمبادلہ ذخائر22 ارب67 کروڑ امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے اوقاتِ کار کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا

معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ بیرونی مالیاتی دباؤ میں کمی، درآمدی ادائیگیوں کی بہتر صلاحیت اور ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ تصور کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مضبوط ذخائر نہ صرف بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ قومی کرنسی کو بھی سہارا فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر کی موجودہ سطح پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم پائیدار معاشی استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ اور ترسیلاتِ زر کے تسلسل کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

سٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ کو معاشی حلقوں میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو ملک کی مالیاتی صورتحال میں بتدریج بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔

editor

Related Articles