بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو ان کی متنازع فلم کالا ہرن ،دی بیٹل فار لیگیسی کے خلاف دائر مقدمے میں فوری ریلیف نہ مل سکا، نئی دہلی کی عدالت نے کیس کی سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی کی عدالت میں جسٹس مادھو جین کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جہاں سلمان خان کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سندیپ سیٹھی نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم ساز ان کی زندگی اور شہرت سے جڑے عناصر کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کر رہے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ فلم میں سلمان خان کا نام براہ راست استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اس کی کہانی، کرداروں کی پیشکش اور بعض مناظر اداکار کی حقیقی زندگی سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ساز تجارتی مقاصد کے لیے سلمان خان کی عوامی شناخت اور شہرت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سلمان خان کی قانونی ٹیم نے ٹریلر کے بعض مناظر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی کردار کی شخصیت اور انداز اداکار سے مشابہت رکھتے ہیں۔ وکیل کے مطابق کردار کو سلمان خان کے مشہور فیروزی رنگ کے بریسلٹ اور دیگر مخصوص علامات کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو ناظرین کو گمراہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب فلم سازوں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں مقدمے سے متعلق مکمل قانونی دستاویزات موصول نہیں ہوئیں، اسی لیے وہ اس مرحلے پر فلم کی نمائش روکنے کے مطالبے پر مؤثر جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی ٹیم کو شدید ردعمل اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا بھی ہے، جس پر پولیس سے رجوع کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے سلمان خان کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی کہ مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات فلم سازوں کو فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی عدالت نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ سلمان خان نے عدالت سے فلم کی ریلیز روکنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فلم 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھ ان کی مبینہ کشیدگی کو ان کی اجازت کے بغیر پیش کرتی ہے۔