اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری جنگ بندی کے درمیان شمالی سرحدی علاقوں پر عائد تمام جنگی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے مطابق، آج صبح 6 بجے سے سرحدی محاذ سے متصل علاقوں میں نافذ تمام پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، اس اعلان کے بعد شمالی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کی بحالی اور شہری سرگرمیوں کی مکمل بحالی کی راہ ہموار ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
تاہم جنگ بندی کے باوجود لبنان میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ، اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز لبنان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی سرحدی علاقوں سے پابندیوں کا خاتمہ جنگ بندی پر اسرائیلی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے تاہم حالیہ ہلاکتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سرحدی صورتحال اب بھی غیر یقینی اور حساس ہے۔
یہ بھی پڑھیں :لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکا سے مذاکرات روک دینگے، ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا انتباہ
دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل کا جنوبی لبنان میں واقع بیوفورٹ قلعہ کے علاقے سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں۔
اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بیوفورٹ قلعہ کا علاقہ لبنان میں قائم سکیورٹی زون کا لازمی حصہ ہے اور الجلیل کی بستیوں اور اسرائیلی فوج کے دفاع کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اس علاقے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم جزو سمجھتی ہے اور موجودہ حالات میں وہاں سے فوجی انخلا زیر غور نہیں۔
بیوفورٹ تاریخی پہاڑی قلعہ ہے جسے اسرائیلی فوج نے گزشتہ ماہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔