راولاکوٹ دریک عیدگاہ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں بکھری خالی کرسیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت نے اس گروہ کو مسترد کر دیا ہے۔
بنیادی حقوق کے نام پر لوگوں کو ورغلا کر راولاکوٹ لایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ عوامی ہجوم کے ذریعے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈال کر نظام کو مفلوج کیا جائے گا اور ریاست کے خلاف محاذ کھڑا کیا جائے گا، مگر ان کے تمام عزائم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
جوں جوں عوام پر اس گروہ کی حقیقت آشکار ہوتی گئی اور ان کا ریاست مخالف و پاکستان مخالف بیانیہ سامنے آتا گیا، لوگ ان سے دور ہوتے گئے۔ آج دھرنے کا ویران پنڈال اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ نہ ان کے پاس عوامی حمایت باقی رہی ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ قبول بیانیہ۔
اپنی ناکامی چھپانے کے لیے خواتین اور بچوں کو آگے بٹھا کر انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا انتہائی شرمناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ دوسری جانب ان کے کارکن مختلف علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جس سے شہری شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔
باشعور، محبِ وطن اور ذمہ دار کشمیری عوام پہلے ہی اس گروہ کو مسترد کر چکے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عناصر کو مکمل طور پر رد کیا جائے جو پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو کمزور کرنے، ریاست میں انتشار پھیلانے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔