آخرکار انصاف مل گیا، سپاہی شبیر بلوچ شہید کی والدہ کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

آخرکار انصاف مل گیا، سپاہی شبیر بلوچ شہید کی  والدہ کا عدالتی فیصلے کا خیرمقدم

سپاہی شبیر بلوچ شہید کی والدہ نے ویڈیو پیغام میں اپنے بیٹے کے قتل کیس میں آنے والے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں انصاف مل گیا ہے ۔

اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا تھا، تاہم عدالتی فیصلے کے بعد انہیں اطمینان حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال کے طویل انتظار کے بعد ان کے بیٹے کے قتل کے معاملے میں انصاف ملا ہے۔

سپاہی شبیر بلوچ کے بھائی نذیر احمد نے بھی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شبیر بلوچ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے اور ان کے پاس ہتھیار موجود ہونے کے باوجود انہوں نے کسی کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا، تاہم انہیں شرپسندوں نے پتھر مار کرشہید کردیا۔

نذیر احمد نے مطالبہ کیا کہ کیس میں ملوث دیگر افراد کو بھی سزا دی جائے تاکہ انصاف کا عمل مکمل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر بلوچ نے وطن کے دفاع کے جذبے کے تحت پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور دورانِ ڈیوٹی اپنی جان قربان کی۔

یہ بھی پڑھیں :سوئٹرز لینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اورقطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری

دوسری جانب شہید کے کزن اور قریبی دوست محمد انور نے شبیر بلوچ کو ایک بہترین انسان اور مخلص دوست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی شبیر بلوچ چھٹی پر گھر آتے تھے تو دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ وقت گزارتے اور خوشگوار محفلوں کا حصہ بنتے تھے۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شہید شبیر بلوچ کے اہلِ خانہ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ شبیر بلوچ صرف ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ ایک ماں کے لختِ جگر، بہن بھائیوں کے سہارے اور اپنے دوستوں کے وفادار ساتھی بھی تھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا کہ شبیر بلوچ کی ہلاکت ایک افسوسناک واقعہ تھا جس نے خاندان کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید کی والدہ نے انصاف کے حصول کے لیے دو برس تک صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور بالآخر عدالت نے دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔

یہ بھی پڑھیں :کالعدم ایکشن کمیٹی بھارت کی زبان بولنے لگی ، قومی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، مقدمہ درج

سرفراز بگٹی کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد شہید کی والدہ کو یہ احساس ہوا کہ اگرچہ انصاف کے حصول میں وقت لگا، تاہم قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا اور انہیں انصاف فراہم کیا گیا۔

editor

Related Articles