وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عالمی تیل مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ اور علاقائی صورتحال کے اثرات کے باوجود پیٹرولیم قیمتوں میں عوامی ریلیف برقرار رکھنے کا مؤقف دہرادیا ۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ اللہ کے فضل سے محرم الحرام کا پہلا عشرہ بخیریت گزر گیا، امن و امان کیلئے پاک فوج، وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب کو سراہتے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ آج اس خطے میں امن ہو گیا، ایران امریکہ جنگ کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد اب عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پچھلے ہفتے جتنی قیمت کم ہوئی اس سے بڑھ کر ریلیف دیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف نے فوری فائدہ عوام کو منتقل کیا اور ہم نے عالمی منڈی سے زیادہ فائدہ عوام کو دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عناصر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، عالمی سطح پر کیے گئے معاہدوں پر رہتے ہوئے آگے چلیں گے۔
قبل ازیں علی پرویز ملک نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ہمیشہ عوامی ریلیف کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی اور مشکل حالات میں کیے گئے فیصلوں پر حکومت آج بھی قائم ہے، جنگی صورتحال سے قبل پیٹرولیم لیوی 84 روپے فی لیٹر تھی جبکہ اس وقت یہ 66 روپے فی لیٹر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ، اپریل کے دوران ڈیزل کی قیمت 520 روپے اور پیٹرول 460 روپے تک جا پہنچا تھا تاہم بعد ازاں حکومت نے ڈیزل میں تقریباً 200 روپے اور پیٹرول میں 150 سے 155 روپے تک ریلیف فراہم کیا، جبکہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی خام تیل سے صرف 25 سے 30 فیصد پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر یقینی حالات کے دوران مختلف ذرائع سے نسبتاً کم قیمت پر تیل کی فراہمی یقینی بنائی جس سے مالی فائدہ حاصل ہوا، جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے بھی معاملات کو سنبھالا گیا ، موجودہ وقت میں عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے، اسی لیے لیوی میں کمی کے باوجود قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے وعدوں پر قائم ہے اور جیسے ہی عالمی منڈی میں مزید کمی آئے گی، اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا ، انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ قیمتوں سے متعلق فیصلے کسی بیرونی دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے کسی دباؤ کے بغیر معاملات پر مشاورت کی اور تمام فیصلے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے گئے۔