پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کے بعد کی ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بحرینی وزیر خارجہ نے اسلام آباد ایم او یو کی کامیابی پر پاکستان کو خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہوئے تنازعات کے حل اور سیز فائر (جنگ بندی) کے لیے اسلام آباد کے تعمیری اور ثالثی کردار کی بھرپور ستائش کی ہے۔
اسلام آباد ایم او یو اور دیرپا علاقائی امن کی امید
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے گہری امید ظاہر کی کہ ’اسلام آباد ایم او یو‘ خطے میں دیرپا امن، سیکیورٹی اور استحکام کے قیام میں ایک اہم سنگِ میل اور مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے جنگ بندی (سیز فائر) کو ممکن بنانے اور سفارتی بحران کو ٹالنے کے لیے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستان کی مقتدر عسکری و سول قیادت کی مخلصانہ کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
بحرینی وزیر خارجہ کا جلد دورۂ پاکستان کا فیصلہ
اس تاریخی سفارتی کامیابی اور پاکستان کے کلیدی کردار پر ذاتی طور پر اظہارِ تشکر کرنے کے لیے بحرین کے وزیر خارجہ نے جلد ہی پاکستان کا ایک سرکاری دورہ کرنے کا واشگاف عندیہ بھی دیا ہے۔
اس دورے کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی سلامتی کے دیگر اہم امور پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
مذاکرات اور سفارت کاری کا قومی عزم، اسحاق ڈار
بحرینی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا اور امن، بامقصد مذاکرات اور غیر جانبدارانہ سفارت کاری کے قومی عزم کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ اور مسلم امہ کے مابین اتحاد و یکجہتی کے لیے اپنی مخلصانہ سفارتی کوششیں اور قائدانہ کردار مستقبل میں بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی سیاست میں پاکستان ہمیشہ سے ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔
’اسلام آباد ایم او یو‘ (مفاہمتی یادداشت) کا حالیہ انعقاد اس بات کی گواہی ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بڑا جیو پولیٹیکل تنازع یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو فریقین پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہیں۔
بحرین اور پاکستان کے تعلقات دیرینہ، برادرانہ اور دفاعی بنیادوں پر انتہائی مضبوط ہیں، جہاں ہزاروں پاکستانی بحرین کی ترقی اور سیکیورٹی فورسز میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
حالیہ سیز فائر میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی پسِ پردہ سفارت کاری نے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ڈاکٹرعبداللطیف بن راشد الزیانی کا یہ رابطہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا سفارتی وقار بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر عرب دنیا میں، دوبارہ تیزی سے بحال ہو رہا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ ایک بڑا بریک تھرو ہے کہ اس نے محض ایک فریق بننے کے بجائے ‘امن کے سفیر’ کا کارڈ کھیلا، جسے بحرین جیسی بااثر خلیجی ریاست نے کھل کر تسلیم کیا ہے۔
بحرینی وزیر خارجہ کا تشکر کے لیے ‘جلد پاکستان کا دورہ’ کرنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ ’اسلام آباد ایم او یو‘ محض ایک کاغذی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انتہائی گہرے اور عملی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے نئی سرمایہ کاری، سستی توانائی کے معاہدوں اور خلیج میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا ایک بہترین جیو اکنامک ذریعہ بن سکتی ہے۔