پاکستان، قطر ثالثی میں امریکا اور ایران کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق، 6 ارب ڈالر کے اثاثوں سے متعلق بھی اہم پیش رفت

پاکستان، قطر ثالثی میں امریکا اور ایران کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق، 6 ارب ڈالر کے اثاثوں سے متعلق بھی اہم پیش رفت

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کاروں کے درمیان الگ الگ ملاقاتوں کا سلسلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔

ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (ایم او یو) سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں اس ماہ کے آغاز میں ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھایا گیا ہے اور دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سوئٹزرلینڈ نے ایران امریکا مذاکرات کے لیے رازداری اور اعتماد پر مبنی ماحول برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور اب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد جلد از جلد منعقد کیا جائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے روز شہید ہوئے تھے، کی تدفین 9 جولائی کو ہونا متوقع ہے۔

2 روز تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں امریکی اور ایرانی وفود نے بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی فوری بحالی اور قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی جیسے اہم تکنیکی نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

جوہری پروگرام پر امریکی قیادت کے بیانات اور تضادات

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔

 امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششیں اچھی سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں اور دوحہ ملاقاتیں بہت مثبت رہی ہیں، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات سے وابستہ سفارتی ذرائع نے صدر ٹرمپ کے بیان کے برعکس واضح کیا ہے کہ حالیہ دوحہ اجلاس خالصتاً تکنیکی نوعیت کا تھا اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جوہری معاملے پر تفصیلی بات چیت بعد کے مرحلے میں شروع کی جائے گی۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے ہمیں جوہری معاملے پر تشدید تشویش ہے اور ہم جلد اس پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

رابطہ چینل کا قیام اور منجمد اثاثوں کا استعمال

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں فریقوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور اندراج کے لیے آئندہ روز سے ایک باقاعدہ رابطہ چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق کاظم غریب آبادی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ دوحہ مذاکرات کے بعد تہران قطر میں منجمد اپنے اثاثوں میں سے کچھ رقم ملک کی ضروری اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

قطری حکام اور مرکزی بینک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ابتدائی 6 ارب ڈالر میں سے ایک حصے کے فوری استعمال سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟

پاکستان اور قطر کی انتھک سفارتی کوششوں سے طے پانے والی اس ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کو گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے سربراہی اجلاس میں حتمی شکل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اسماعیل بقائی

اس تاریخی معاہدے کے بنیادی نکات میں خطے میں 60 روزہ جنگ بندی، عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستے ’آبنائے ہرمز‘کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور خطے کے تنازعات کے مستقل حل کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر آئندہ مذاکرات کے لیے ایک واضح ٹائم فریم کا تعین شامل ہے۔

یہ یادداشت مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے پہلا بڑا قدم ثابت ہوئی ہے۔

پاک قطر ثالثی اور خطے کے مستقبل پر اثرات

واضح رہے کہ دوحہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ایک اہم ’بریک تھرو‘  ہے۔ پاکستان اور قطر نے مشترکہ ثالثی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ شدید ترین فوجی تنازع اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت جیسے بڑے سانحے کے باوجود سفارتی راستے کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ڈومیسٹک ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لیے اسے ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ کی کامیابی قرار دے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ابھی صرف تجارتی اور مالیاتی امور پر بات ہو رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کا کھلنا عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے لائف لائن ہے، اسی لیے امریکا اس میں گہری دلچسپی لے رہا ہے، جبکہ ایران 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل کر کے اپنی معیشت کو سہارا دینا چاہتا ہے۔

سب سے بڑا چیلنج 9 جولائی کو ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کے بعد نئے ایرانی سیٹ اپ کے ساتھ ان مذاکرات کو اسی رفتار سے آگے بڑھانا ہو گا۔

Related Articles