وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز پر درآمدی محصولات میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے امپورٹڈ گاڑیوں پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد جاپان، چین، تھائی لینڈ، یورپ، امریکہ اور مشرق وسطیٰ سے درآمد ہونے والی متعدد گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے تک کمی آنے کا امکان ہے
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر اوز کے مطابق جن گاڑیوں پر پہلے 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد تھی اسے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کرکے 8 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی مختلف شرحوں میں بھی کمی کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا۔
پاکستان میں ہر سال مختلف اسکیموں اور کمرشل درآمدات کے ذریعے ہزاروں گاڑیاں بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔ ان میں ٹویوٹا کی لینڈ کروزر، پراڈو، کرولا، یارس، نوح، ووکسی اور الفارڈ، لیکسس، ہونڈا کی ویزل، سوک، سی آر وی اور فٹ، سوزوکی کی جمنی، ہسلر اور جاپانی ویگن آر، نسان کی نوٹ، ایکس ٹریل اور سیرینا، مزدا، مٹسوبشی، سبارو، بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز بینز، آڈی، وولوو، پورشے، رینج روور، کِیا، ہنڈائی اور مختلف الیکٹرک گاڑیوں کے برانڈز جیسے بی وائی ڈی، ایم جی اور ٹیسلا شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی تعداد ہر سال درآمدی پالیسی زرمبادلہ کی دستیابی اور حکومتی پابندیوں کے باعث تبدیل ہوتی رہتی ہے تاہم کمرشل اور پرسنل بیگیج اسکیموں کے تحت ہر سال ہزاروں گاڑیاں ملک میں لائی جاتی ہیں۔
آٹو مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق چونکہ ڈیوٹی میں کمی مختلف انجن کیٹیگریز کے مطابق کی گئی ہے اس لیے ہر گاڑی پر ملنے والا ریلیف بھی مختلف ہوگا۔ 30 لاکھ روپے مالیت کی درآمدی گاڑی پر ایک سے تین لاکھ روپے تک 50 لاکھ روپے کی گاڑی پر تین سے چھ لاکھ روپے تک ایک کروڑ روپے مالیت کی ایس یو وی پر 10 سے 20 لاکھ روپے تک جبکہ ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں پر 20 سے 50 لاکھ روپے تک ٹیکس میں کمی کا فائدہ مل سکتا ہے۔ اسی طرح لینڈ کروزر اور رینج روور جیسی انتہائی مہنگی گاڑیوں پر مجموعی بچت 50 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے تاہم حتمی رعایت گاڑی کی سی آئی ایف ویلیو انجن سائز اور دیگر قابل اطلاق ٹیکسوں پر منحصر ہوگی۔
ذیل میں معروف امپورٹڈ گاڑیوں کی متوقع قیمت میں کمی کا ایک عملی تخمینہ دیا جا رہا ہے۔ یہ حتمی سرکاری قیمتیں نہیں بلکہ نئی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے بعد مارکیٹ کے ممکنہ اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
| گاڑی | موجودہ اندازاً قیمت | متوقع کمی |
|---|---|---|
| ٹویوٹا ویزل | 90 لاکھ تا 1.20 کروڑ روپے | 5 تا 8 لاکھ روپے |
| ہونڈا ویزل ہائبرڈ | 1 تا 1.30 کروڑ روپے | 6 تا 10 لاکھ روپے |
| ٹویوٹا پراڈو | 6 تا 8 کروڑ روپے | 25 تا 40 لاکھ روپے |
| ٹویوٹا لینڈ کروزر LC300 | 10 تا 14 کروڑ روپے | 50 لاکھ تا 1 کروڑ روپے |
| لیکسس LX600 | 12 تا 16 کروڑ روپے | 60 لاکھ تا 1.20 کروڑ روپے |
| رینج روور | 12 تا 18 کروڑ روپے | 60 لاکھ تا 1.50 کروڑ روپے |
| مرسڈیز بینز GLE | 5 تا 7 کروڑ روپے | 20 تا 35 لاکھ روپے |
| بی ایم ڈبلیو X5 | 5 تا 7 کروڑ روپے | 20 تا 35 لاکھ روپے |
| آڈی Q7 | 4.5 تا 6 کروڑ روپے | 20 تا 30 لاکھ روپے |
| پورشے کاین | 7 تا 10 کروڑ روپے | 30 تا 60 لاکھ روپے |
| بی وائی ڈی اٹو 3 | 80 لاکھ تا 1.10 کروڑ روپے | 4 تا 8 لاکھ روپے |
| ایم جی کے درآمدی ماڈلز | 90 لاکھ تا 1.50 کروڑ روپے | 5 تا 12 لاکھ روپے |

