اوگرا کا 500 پیٹرول پمپس سے متعلق حیران کن انکشاف

اوگرا کا 500 پیٹرول پمپس سے متعلق حیران کن انکشاف

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے قائم مقام چیئرمین نے ملک بھر میں تقریباً500 پیٹرول پمپس سے متعلق ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ پمپس طویل عرصے تک مکمل طور پر غیر فعال رہے لیکن ایک مخصوص مدت میں اچانک بڑے پیمانے پر تیل کی فروخت سامنے آئی۔

اوگرا حکام کے مطابق یہ 500پیٹرول پمپس دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران کسی بھی قسم کی سیل یا سرگرمی میں ظاہر نہیں ہوئے اور انہیں عملی طور پر بند یا غیر فعال تصور کیا جا رہا تھا۔

مارچ اور اپریل میں اچانک ان پمپس سے ہزاروں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت ریکارڈ کی گئی، جس نے ریگولیٹری ادارے کے لیے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

قائم مقام چیئرمین اوگرا کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی تبدیلی کے بعد ان پمپس کی سرگرمیوں کی تفصیلی جانچ شروع کر دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ قانونی کاروباری سرگرمی ہے یا کسی غیر قانونی طریقہ کار کے تحت تیل کی فروخت کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ، وزارت خزانہ کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری

اوگرا کی جانب سے ان پمپس سے بجلی کے بل اور آپریشنل ریکارڈ طلب کیے گئے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ واقعی فعال تھے یا نہیں تاہم اس مرحلے پر تمام متعلقہ پمپس مالکان کی جانب سے ایک ہی نوعیت کا جواب سامنے آیا کہ وہ سولر انرجی پر منتقل ہو چکے ہیں اور ان کا بجلی کے قومی نظام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔

اوگرا حکام کے مطابق اس یکساں جواب نے بھی مزید سوالات کو جنم دیا ہے اور معاملے کی مزید باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیںحکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس سرگرمی کے ذریعے کسی قسم کے غیر قانونی یا اسمگل شدہ تیل کو قانونی ظاہر کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی۔

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ تمام ڈیٹا اور ریکارڈز کا تفصیلی آڈٹ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی اس حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ اس دوران متعلقہ پمپس کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کو روکا جا سکے۔

editor

Related Articles