پاکستانی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی تازہ ترین شرحِ تبادلہ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق حالیہ دنوں میں اس کرنسی میں واضح اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل غیر یقینی کیفیت رہی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں طلب و رسد کا فرق، معاشی دباؤ اور خطے کی مجموعی اقتصادی صورتحال شامل ہیں۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں اور اندرونی مالی مشکلات کے باعث ایرانی ریال عالمی سطح پر دباؤ کا شکار ہے، جس کے اثرات پاکستانی اوپن مارکیٹ میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
جاری کردہ شرح کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایک پاکستانی روپیہ کے بدلے 4945 ایرانی ریال مل رہے ہیں اسی طرح پانچ پاکستانی روپے کے بدلے 24726 اعشاریہ ستر ایرانی ریال، دس پاکستانی روپے کے بدلے 49453 اعشاریہ چالیس ایرانی ریال۔
20 پاکستانی روپے کے بدلے98906 اعشاریہ اسی ایرانی ریال،50 پاکستانی روپے کے بدلے دو لاکھ 47 ہزازدو 267 ایرانی ریال جبکہ 100 پاکستانی روپے کے بدلے4لاکھ 94 ہزار534 ایرانی ریال کا لین دین ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی ریال کی عالمی قدر طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہے اور اس میں بار بار اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے کی سیاسی اور معاشی غیر یقینی کیفیت بھی کرنسی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں شرحِ تبادلہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان موجود ہے۔
اوپن مارکیٹ میں کرنسی ڈیلرز کے مطابق ایرانی ریال کی خرید و فروخت محدود پیمانے پر جاری ہے اور زیادہ تر لین دین مخصوص کاروباری ضروریات تک محدود ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور پابندیاں برقرار رہیں تو اس کرنسی کی قدر میں مزید کمی یا غیر مستحکم صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال بھی براہ راست کرنسی کی شرحوں پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔