امریکی ڈالر بری طرح گر گیا ، جاپانی کرنسی 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، مارکیٹ میں نئی ہلچل

امریکی ڈالر بری طرح گر گیا ، جاپانی کرنسی  40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، مارکیٹ میں نئی ہلچل

عالمی کرنسی مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔

دوسری جانب جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا جس کے باعث جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔

ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1435 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3351 ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔ اسی دوران ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے 100.9 پر مستحکم رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر میں حالیہ کمزوری کے باوجود مارکیٹ محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔

ادھر جاپانی ین 161.57 فی ڈالر کی سطح پر رہا جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 1986 کے بعد کی کم ترین سطح 162.84 سے زیادہ دور نہیں۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار جاپانی حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے ممکنہ مداخلت کے خدشے کے باعث محتاط انداز میں کاروبار کر رہے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی جاپانی حکام ین کی شدید گراوٹ روکنے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کر چکے ہیں۔

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں خلیجی ممالک کی کرنسیوں میں بھی استحکام دیکھا گیا۔ سعودی ریال 74.35 روپے خرید اور 75.00 روپے فروخت، متحدہ عرب امارات کا درہم 76.00 روپے خرید اور 76.75 روپے فروخت قطری ریال 75.19 روپے خرید اور 76.20 روپے فروخت، عمانی ریال 723.42 روپے خرید اور 733.55 روپے فروخت، بحرینی دینار 738.61 روپے خرید اور 748.71 روپے فروخت جبکہ کویتی دینار 887.10 روپے خرید اور 897.90 روپے فروخت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:صرف 4,700 روپے ماہانہ قسط پر ہونڈا موٹر سائیکل گھر لے جائیں، خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری

گزشتہ ہفتے امریکہ سے جاری ہونے والے روزگار کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ڈالر میں اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی دیکھی گئی۔ جون میں نئی ملازمتوں کی تعداد توقعات سے کم رہی جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود بڑھانے کے امکانات کم تصور کرنا شروع کر دیے ہیں۔

دوسری جانب ایشیائی مارکیٹوں میں جنوبی کوریا کے وون میں معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جاپان نے ین کو سہارا دینے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت بھی کی تو اس کے اثرات عارضی ہوں گے اور بنیادی معاشی عوامل میں بہتری کے بغیر ین کو طویل مدتی استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

اگر عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر پر دباؤ برقرار رہتا ہے اور فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافے سے گریز کرتا ہے تو اس کے مثبت اثرات ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں بشمول پاکستانی روپے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر ڈالر مزید کمزور ہوتا ہے تو پاکستان میں درآمدی اشیا خصوصاً پیٹرولیم مصنوعات اور خام مال کی لاگت میں کمی آنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جس سے مہنگائی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

editor

Related Articles