دنیا کا نایاب ترین پینگوئن، سنہری رنگت نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا

دنیا کا نایاب ترین پینگوئن، سنہری رنگت نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا

قدرت کبھی کبھار ایسے حیرت انگیز مناظر تخلیق کرتی ہے جو برسوں میں ایک بار ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نایاب منظر جنوبی بحرِ اوقیانوس کے جزیرے ساؤتھ جارجیا میں اس وقت سامنے آیا، جب تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار کنگ پینگوئنز کے درمیان ایک سنہری رنگ کا پینگوئن سمندر سے باہر آتا دکھائی دیا۔

یہ نایاب لمحہ بیلجیئم کے وائلڈ لائف فوٹوگرافر ایوایڈمز  نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ وہ ساؤتھ جارجیا میں ایک مہم کے دوران موجود تھے، جب ان کی ٹیم پینگوئنز سے بھرے ساحل پر اتری اور اچانک ایک منفرد سنہری پینگوئن سیدھا ان کے کیمرے کی طرف چلتا ہوا آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں :سال میں2 بار گرمی کا موسم دیکھنے والا حیرت انگیز پرندہ

ماہرین کے مطابق یہ غیرمعمولی رنگت لیوسزم  نامی ایک نایاب جینیاتی کیفیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں جسم میں سیاہ رنگ پیدا کرنے والے مادے میلانن  کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث پروں کا قدرتی سیاہ رنگ نمایاں نہیں رہتا اور ان میں موجود زرد رنگ نمایاں ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لیوسزم کو البینزم سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ البینزم میں جسم میلانن بالکل پیدا نہیں کر پاتا اور جانوروں کی آنکھیں عموماً سرخ یا گلابی ہوتی ہیں، جبکہ لیوسزم میں میلانن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، اسی لیے جانور کی آنکھوں کا قدرتی رنگ برقرار رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :قدرت کی انوکھی مچھلی جس کے دانت انسانوں جیسے ہیں

اگرچہ سنہری رنگ اس پینگوئن کو انتہائی منفرد اور خوبصورت بناتا ہے، لیکن جنگلی ماحول میں یہی خصوصیت اس کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ عام کنگ پینگوئنز کی سیاہ پشت انہیں سمندر میں شکاریوں سے چھپنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ روشن رنگت والا پینگوئن آسانی سے نظر آ سکتا ہے، جس سے اس کی بقا مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے سنہری پینگوئن انتہائی کم دیکھنے میں آتے ہیں، اسی لیے اس نایاب لمحے کو جنگلی حیات کی فوٹوگرافی کے یادگار ترین مناظر میں شمار کیا جا رہا ہے۔نا

editor

Related Articles