دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور مقامات تلاش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مقبول ایپ گوگل میپس میں جلد ایک نیا فیچر شامل کیے جانے کا امکان ہے، جس کے ذریعے صارفین ایپ کے اندر ہی کھانا آرڈر کر سکیں گے۔
ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق گوگل میپس کے اینڈرائیڈ ورژن کے تازہ ترین کوڈ میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اس نئے فیچر پر کام کر رہی ہے۔ اس سہولت کے ذریعے صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے چیٹ کرتے ہوئے براہِ راست اپنی پسند کے ریسٹورنٹ سے کھانا آرڈر کر سکیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیچر گوگل میپس کے نئے اے آئی ٹول ’’ آسک میپز‘‘ کے ساتھ منسلک ہوگا۔ اس ٹول کی مدد سے صارفین مختلف مقامات، ریسٹورنٹس اور دیگر مقامات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گفتگو کے دوران ہی کھانے کا آرڈر بھی دے سکیں گے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس فیچر کا مقصد دورانِ سفر صارفین کے لیے کھانا آرڈر کرنے کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانا ہے۔گوگل میپس کے کوڈ میں موجود مختلف ڈیجیٹل بٹن اور دیگر عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کمپنی اس فیچر کی تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایپ میں ’ڈرائیو اپ‘ نامی سروس شامل کیے جانے کے آثار بھی ملے ہیں، جس کے تحت صارفین آن لائن آرڈر کیا گیا کھانا ریسٹورنٹ پہنچ کر اپنی گاڑی سے اترے بغیر وصول کر سکیں گے۔
چند ہفتے قبل گوگل نے اپنی ایک آفیشل بلاگ پوسٹ میں بھی اشارہ دیا تھا کہ مستقبل میں گوگل میپس کے اندر ہی کھانا آرڈر کرنے کی سہولت متعارف کرائی جائے گی۔
تاہم کمپنی کی جانب سے اس فیچر کی باضابطہ لانچ، دستیابی یا مختلف ممالک میں متعارف کرانے کی تاریخ کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے ابتدائی طور پر چند منتخب ممالک میں آزمائشی بنیادوں پر پیش کیا جائے گا۔