بھارت میں پابندی کے باوجود،دلجیت دوسانجھ کی ’ستلج‘ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

بھارت میں  پابندی کے باوجود،دلجیت دوسانجھ کی ’ستلج‘ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

بھارتی پنجابی سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’ستلج‘ کو بھارت میں ریلیز کے صرف دو روز بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم ‍ذی فائیو سے ہٹا دیا گیا، تاہم فلم نے مختصر عرصے میں ہی عالمی سطح پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرتے ہوئے پلیٹ فارم کی بیرونِ ملک ڈاؤن لوڈز میں نمایاں اضافہ کر دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی ریلیز کے بعد بھارت سے باہرذی فائیو ایپ کی ماہانہ ڈاؤن لوڈز میں تقریباً 374 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ پلیٹ فارم کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں فلم کی وجہ سے ایپ کے صارفین میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ بھی پڑھیں :حقیقت دکھانے کی سزا؟ سکھ رہنما کی زندگی پر مبنی فلم ستلج بھارت میں ہٹا دی گئی

یہ فلم سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔ تقریباً چار برس تک مختلف مراحل میں رکی رہنے کے بعد فلم 3 جولائی کوذی فائیو  پر ریلیز کی گئی، لیکن 5 جولائی کو ’موجودہ حالات‘کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم بیرونِ ملک صارفین اب بھی فلم دیکھ سکتے ہیں، جبکہ اس کی غیرقانونی کاپیاں بھی انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔

فلم کے شریک مصنف نیرن بھٹ نے فلم ہٹانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں کو آج تک سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ فلم پر اصل اعتراضات کیا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پروڈیوسرز اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور امید ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد فلم دوبارہ ذی فائیو پر دستیاب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :فضا علی نے دوسری شادی سے پہلے کیا شرط رکھی

دوسری جانب فلم کے شریک پروڈیوسر رونی اسکریووالا کی پروڈکشن کمپنی آر ایس وی پی مویزنے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومتی ہدایات پر فلم کو پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا۔

دلجیت دوسانجھ نے بھی انسٹاگرام لائیو کے دوران اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ فلم زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر موجود نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ریلیز ہوتے ہی بہت سے لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر چکے تھے، اس لیے اب اسے انٹرنیٹ سے مکمل طور پر ہٹانا ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے فلم کی منظوری کے لیے 127 ترامیم تجویز کی تھیں، تاہم فلم سازوں نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان تبدیلیوں کو قبول نہیں کیا کہ اس سے فلم کا بنیادی پیغام متاثر ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ فلم تقریباً چار برس تک ریلیز نہ ہو سکی۔

editor

Related Articles