صحافت کے نام پر مذہبی منافرت اور بدتمیزی کے کلچر کو فروغ دینے والا ریحان طارق قانون کی گرفت میں، گزشتہ دنوں ریحان طارق نے علامہ سید جواد نقوی کے ہمراہ پوڈ کاسٹ میں مذہبی منافرت کو ہوا دی۔
ریحان طارق جو کہ پہلے ہی اپنے بدتمیز لہجے، تمسخرانہ انداز اور صحافت کے نام پر غلاظت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے شدید تنقید کی زد میں تھا۔
محرام الحرام کی مناسبت سے کیے جانیوالے پاڈ کاسٹ میں ریحان طارق نے جان بوجھ کر مقدس ہستیوں کے حوالے سے متنازعہ سوالات کیے،جسکے بعد مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
متنازع پوڈ کاسٹ کرنے کے بعد ریحان طارق لندن بھاگ گیا تھا اور وہاں جاکر معافی مانگنے کا ڈھونگ رچانے لگا لیکن مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا عمل اتنا سنگین تھا کہ عوام سمیت مذہبی رہنماؤں نے اسکی معافی مسترد کرکے اسے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
لہٰذا اسی تناظر میں گزشتہ رات لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں نے ریحان طارق کو تحویل میں لے لیا۔
یاد رہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتا یوٹیوبر ریحان طارق کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت میں عدالت نے ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ۔ریحان طارق پر توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمہ ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔
ریحان طارق نے اپنے آفیشل پیج پر ایک انٹرویو لگایا، مقدمہ انٹرویو میں انتہائی حساس اور متنازع سوالات کیے گئے، مقدمہ ملزم سے ڈیوائس اور موبائل فون کا فرانزک کروانا ہے، این سی سی آئی اے عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ طلب کرلی ہے۔