فیکٹ چیک: کیا پنجاب میں تمام ٹیوشن سینٹرز بند کیے جارہے ہیں؟

فیکٹ چیک: کیا پنجاب میں تمام ٹیوشن سینٹرز بند کیے جارہے ہیں؟

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبے بھر کے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم دستیاب حقائق کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔

یہ تاثر گزشتہ ماہ لاہور میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے کے بعد سامنے آیا، جس میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد یکم جولائی کو ایک سوشل میڈیا صارف نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رہائشی علاقوں میں قائم تمام ٹیوشن سینٹرز کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ ایسے مراکز متعدد خواتین کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔

تاہم، پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے تمام ٹیوشن سینٹرز پر پابندی لگانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے صرف ان غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا جو مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کر رہیں یا مطلوبہ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

وزیرِ تعلیم نے پیغامات کے ذریعے بھی وضاحت کی کہ ان کی جانب سے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ستمبر سے صرف وہ غیر رجسٹرڈ اکیڈمیاں بند کی جائیں گی جو حفاظتی تقاضے پورے نہیں کریں گی اور ضروری فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران کیساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا بڑا اعلان کر دیا

رانا سکندر حیات نے 3 جولائی کو میڈیا سے گفتگو کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ کارروائی صرف ان اداروں کے خلاف ہوگی جو مطلوبہ حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیوشن اکیڈمیوں کی رجسٹریشن کا اختیار متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہے اور اس وقت پورے پنجاب میں ایسے مراکز کا تفصیلی سروے جاری ہے۔

وزیرِ تعلیم کے پبلک ریلیشنز آفیسر نور الہدیٰ نے بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر نے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

مزید تحقیق کے دوران بھی ایسا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن، پریس کانفرنس، میڈیا انٹرویو یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، جس میں رانا سکندر حیات کی جانب سے تمام ٹیوشن سینٹرز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہو۔

دستیاب معلومات کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔ پنجاب حکومت نے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، بلکہ کارروائی صرف ان غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو حفاظتی اور قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔

Related Articles