دنیا کے انوکھے پتھر، جو بڑھتے بھی ہیں اور حرکت بھی کرتے ہیں

دنیا کے انوکھے پتھر، جو بڑھتے بھی ہیں اور حرکت بھی کرتے ہیں

رومانیہ میں موجود منفرد پتھر، جنہیں ٹرووانٹس کہا جاتا ہے، اپنی غیر معمولی خصوصیات کے باعث برسوں سے سائنس دانوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بظاہر عام دکھائی دینے والے یہ پتھر بارش کے بعد آہستہ آہستہ بڑے ہوتے ہیں، ان پر نئے ابھار نمودار ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ اپنی جگہ بدلتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

ٹرووانٹس کیسے وجود میں آئے؟

ماہرین کے مطابق یہ پتھر تقریباً 60 لاکھ سال قبل بننا شروع ہوئے، جب اس علاقے میں شدید زلزلوں کے بعد ریت کے ذرات اور معدنی نمکیات، خصوصاً کیلشیم کاربونیٹ، آپس میں جڑ گئے۔ پانی میں موجود معدنیات نے ریت کے ذرات کو قدرتی سیمنٹ کی طرح مضبوطی سے جوڑا، جس کے نتیجے میں گول اور منفرد شکل کے یہ پتھر وجود میں آئے

یہ بھی پڑھیں:آج کا نایاب فلکیاتی منظر، دنیا کا بیشتر حصہ ایک ساتھ روشنی میں نہا جائے گا

یہ پتھر بڑے کیسے ہوتے ہیں؟

سائنس دانوں کے مطابق ٹرووانٹس کے اندر کاربونیٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو یہ پتھر پانی جذب کر لیتے ہیں، جس کے بعد اندر موجود معدنیات کے ساتھ کیمیائی عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس ردعمل سے پتھر کے اندر دباؤ پیدا ہوتا ہے، جو اسے آہستہ آہستہ باہر کی جانب پھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پتھر وقت کے ساتھ بڑے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پتھروں کو صرف 4 سے 5 سینٹی میٹر بڑھنے میں بھی تقریباً ایک ہزار سال لگ سکتے ہیں۔

کیا یہ پتھر ’’بچے‘‘ بھی پیدا کرتے ہیں؟

بارش کے بعد بعض اوقات پتھر کے کسی حصے پر دباؤ زیادہ بڑھنے سے چھوٹے گومڑ یا ابھار بن جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ابھار بڑے ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں اصل پتھر سے الگ ہو جاتے ہیں۔یہ الگ ہونے والے چھوٹے پتھر بعد میں خود بھی اسی قدرتی عمل سے گزرتے ہیں، جس کی وجہ سے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ٹرووانٹس ’بچے پیدا کرتے ہیں‘، حالانکہ یہ حیاتیاتی افزائشِ نسل نہیں بلکہ ایک قدرتی ارضیاتی عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فیفا ورلڈ کپ میں پالتو بلی کا انوکھا انداز،درست پیشگوئیوں نے سب کو چونکا دیا

کیا یہ واقعی چلتے ہیں؟

مقامی لوگوں کے مطابق یہ پتھر وقت کے ساتھ اپنی جگہ بھی بدل لیتے ہیں، تاہم سائنس دان اس کی سادہ وضاحت پیش کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بارش کے بعد جب پتھر کا ایک حصہ زیادہ پھیل جاتا ہے یا اس کا وزن تبدیل ہوتا ہے تو زمین کی نمی، کششِ ثقل اور معمولی ڈھلوان کے باعث وہ آہستہ آہستہ سرک جاتا ہے، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر خود چل رہا ہو۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ٹرووانٹس کی یہ تمام خصوصیات قدرتی ارضیاتی اور کیمیائی عمل کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے انہیں دنیا کے منفرد ترین پتھروں میں شامل کر دیا ہے۔

editor

Related Articles