دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے خاص طور پر نوجوان بڑی تعداد میں بٹ کوائن ایتھیریم، یو ایس ڈی ٹی اور دیگر کرپٹو ٹوکنز کی خرید و فروخت اور سرمایہ کاری کی جانب راغب ہو رہے ہیں
اس شعبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ایسے وقت میں ملک کے ممتاز عالم دین صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ منظر عام پر آگیا ہے جس نے مذہبی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ ماہرین کی اب تک کی تحقیق اور آراء کی روشنی میں کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے مال نہیں ہے بلکہ یہ صرف کھاتوں میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ان کے مطابق چاہے معاملہ یو ایس ڈی ٹی (USDT) کا ہو یا دیگر کرپٹو ٹوکنز کا موجودہ صورت میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے صاحبزادے حسن عثمانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کا ہی جاری کردہ فتویٰ ہے۔
یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ متعدد نوجوان ملکی اور بین الاقوامی ایکسچینجز کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کر رہے ہیں جبکہ کرپٹو سے متعلق مختلف منصوبوں ٹریڈنگ پلیٹ فارمز اور بلاک چین ٹیکنالوجی میں بھی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک میں قوانین اور مذہبی آراء بھی مختلف ہیں۔ بعض ممالک نے کرپٹو کو قانونی حیثیت دے رکھی ہے کچھ نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ کئی ریاستیں اس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دے رہی ہیں۔ اسی طرح اسلامی دنیا میں بھی کرپٹو کرنسی کے بارے میں مختلف علماء اور شرعی اداروں کی آراء ایک جیسی نہیں ہیں۔
مفتی تقی عثمانی کے تازہ فتویٰ کو پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ایک اہم مذہبی رائے قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کا شمار اہلِ سنت کے ممتاز فقہاء میں ہوتا ہے اور ان کی آراء کو دینی و مالیاتی معاملات میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔