وفاقی حکومت کی طرف سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عالمی مارکیٹ میں کم ہوئی قیمتوں کاریلیف عوام کو منتقل نہیں کیا اس کی بڑی وجہ سامنے آ گئی ہے اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی میں 9 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اسے 70 روپے 36 پیسے سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔اس اقدام سے حکومت کو پیٹرول پر اضافی ٹیکس موصول ہوگا
حکومتی فیصلے کی روشنی میں پٹرول کی قیمت میں 13 روپے 18 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے جبکہ ڈیزل 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی 70 روپے 82 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
حکومت نے پٹرول پر لیوی میں اضافے کے ذریعے ممکنہ مالی گنجائش کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے اسے سرکاری ریونیو بڑھانے کے لیے استعمال کیا اگر لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو پٹرول کی قیمت میں عوام کو نسبتاً زیادہ ریلیف مل سکتا تھا تاہم حکومت نے اضافی رقم لیوی کی مد میں وصول کرنے کو ترجیح دی۔
پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس مد میں وصول ہونے والی رقم براہِ راست قومی خزانے میں جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت نے بجٹ اہداف، مالی خسارہ کم کرنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا ہے جس سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف پیٹرول پر لیوی میں 9 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافے سے اگر ملک میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پٹرول فروخت ہوتا ہے تو حکومت کو یومیہ تقریباً 19 کروڑ 28 لاکھ روپے اضافی حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ماہانہ اضافی آمدن تقریباً 5 ارب 78 کروڑ روپے جبکہ سالانہ تقریباً 69 سے 70 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے تاہم اصل آمدن فروخت ہونے والے پٹرول کے حجم پر منحصر ہوگی۔
اس فیصلے کا اثر صرف گاڑی استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اشیائے خور و نوش کی ترسیل صنعتی پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے، جس کے باعث مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔