امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
ملاقات کے دوران سفیر پاکستان نے صدر ورلڈ بینک کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے پاکستان میں تیار کردہ آفیشل فٹبال ’ٹرائیونڈا‘ تحفتاً پیش کیا۔
صدر ورلڈ بینک اجے بنگا نے پاکستان کی تیار کردہ سپورٹس مصنوعات، خصوصاً عالمی معیار کے فٹ بال ٹرائیونڈا کی ساخت اور کوالٹی کی دل کھول کر تعریف کی۔
کھیلوں کے ذریعے عالمی روابط اور سیالکوٹ کی عالمی شہرت
ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے شعبے کے ذریعے عالمی برادری کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے اپنا مثبت اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹرائیونڈا کا اعلیٰ ترین معیار اور فیفا ورلڈ کپ 2026 جیسے بڑے عالمی ایونٹ کے لیے پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال کا انتخاب پورے ملک کے لیے طرہ امتیاز اور انتہائی قابل فخر ہے۔
پاکستانی سفیر نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے صنعتی گڑھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معیاری سپورٹس مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کا مشہور شہر سیالکوٹ عالمی سطح پر منفرد شہرت کا حامل ہے۔
عالمی برادری کا یہ اعتماد اور بین الاقوامی ایونٹس کے لیے پاکستان سے کھیلوں کے سامان کا انتخاب ہماری ملکی سپورٹس صنعت کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
ورلڈ بینک کے ساتھ شراکت داری اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے معاشی ترقی کے تناظر میں ورلڈ بینک کے ساتھ پاکستان کی طویل المُدت شراکت داری کی اہمیت و افادیت کا اعتراف کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں جاری اور آئندہ کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو باہمی تعاون سے نتیجہ خیز اور کامیاب بنانا سفارت خانے اور حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
سیالکوٹ کے فٹ بال اور فیفا ورلڈ کپ کا تاریخی رشتہ
پاکستان کا شہر سیالکوٹ دنیا بھر میں ہاتھ سے اور تھرمل بانڈنگ ٹیکنالوجی سے تیار ہونے والے بہترین فٹ بالز کا مرکز مانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں کھیلے جانے والے 70 فیصد سے زیادہ فٹ بالز اسی شہر میں تیار ہوتے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے حالیہ ایڈیشنز بشمول برازیل، روس اور قطر کے بعد اب فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے بھی پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا انتخاب اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سیاسی و معاشی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی صنعتی مہارت اور بین الاقوامی برانڈز کا اعتماد برقرار ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ طے، ٹیرف میں کمی ہوگی: وزارت خزانہ
ورلڈ بینک کے صدر کو یہ تحفہ پیش کرنے کا مقصد پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا اور ملکی برآمدات کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔
کھیلوں کی سفارت کاری اور معاشی شراکت داری کا امتزاج
یہ ملاقات روایتی سفارتی ملاقاتوں سے ہٹ کر ’کھیلوں کی سفارت کاری‘ (اسپورٹس ڈپلومیسی) کی ایک بہترین مثال ہے۔
صدر ورلڈ بینک کو فیفا کا آفیشل فٹ بال پیش کرنا صرف ایک تحفہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی ادارے کے سربراہ کے سامنے پاکستان کی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہے۔
معاشی محاذ پر جہاں پاکستان کو ورلڈ بینک کے تعاون کی سخت ضرورت ہے، وہاں اس طرح کی سافٹ امیج پروجیکشن ملکی وقار میں اضافہ کرتی ہے۔
یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان صرف امداد یا قرضوں پر انحصار کرنے والا ملک نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور کھیلوں کی دنیا میں ایک ناگزیر شراکت دار ہے۔ سیالکوٹ کی صنعت کو اس طرح کی عالمی پذیرائی ملنے سے ملکی برآمدات کو مزید فروغ ملنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔