اگر آپ بھی کسی پارسل سے نکلنے والے ببل ریپ کے بلبلے پھوڑنے سے خود کو نہیں روک پاتے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ عادت بچگانہ پن نہیں بلکہ ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک فطری طریقہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ببل ریپ کے بلبلے دبانے اور پھوڑنے کے دوران انسان کو بیک وقت چھونے، آواز سننے اور بلبلے کو غائب ہوتے دیکھنے کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ متوقع اور مسلسل حسی ردعمل دماغ کو سکون پہنچانے اور ذہنی یکسوئی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
بلبلے پھوڑنے سے ذہنی دباؤ کیوں کم ہوتا ہے؟
دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہر بار بلبلہ پھوٹنے پر دماغ کو ایک چھوٹی سی کامیابی کا احساس ہوتا ہے، جس سے خوشی اور اطمینان سے متعلق دماغی نظام متحرک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سرگرمی بہت سے لوگوں کو خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بار بار دہرائی جانے والی سادہ سرگرمیاں، جیسے ببل ریپ کے بلبلے پھوڑنا، اسٹریس بال دبانا یا بُنائی کرنا، ذہنی دباؤ کم کرنے، توجہ بہتر بنانے اور روزمرہ کی پریشانیوں سے وقتی نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کیا کہتے ہیں؟
نفسیات دان ڈینیل برلائن کے نظریے کے مطابق اگرچہ ہر بلبلہ پھوٹنے کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہوتا ہے، لیکن ہر بار اس کی توقع اور پھر اس کا پورا ہونا دماغ کو مصروف اور مطمئن رکھتا ہے۔
اسی طرح کھیلوں کے ماہر اسٹیورٹ براؤن کے مطابق کھیل اور ہلکی پھلکی سرگرمیاں صرف بچوں ہی نہیں بلکہ بالغ افراد کی ذہنی صحت اور مثبت جذبات کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہیں۔
میڈیا رپورٹ میں سیلف ڈیٹرمینیشن تھیوری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسان بعض سرگرمیاں صرف اس لیے انجام دیتا ہے کیونکہ وہ فطری طور پر خوشی اور اطمینان کا احساس دیتی ہیں، نہ کہ کسی بیرونی انعام یا فائدے کے لیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ببل ریپ کے بلبلے پھوڑنے کا شوق غیر سنجیدگی یا ناپختگی کی علامت نہیں بلکہ ایک بے ضرر عادت ہے، جو ذہنی سکون، توجہ میں بہتری اور جذباتی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔