سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا حکم جاری

سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں سے متعلق بڑا حکم جاری

سپریم کورٹ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ خواتین اساتذہ کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہراسانی کے خلاف مؤثر نظام قائم کیا جائے، جبکہ ایک ہراسانی کیس میں محکمانہ سزا بھی بحال کر دی گئی۔

ہفتہ کے روز 2 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھیں، نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا کہ جو تعلیمی ادارہ ہراسانی جیسے رویوں کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے بنیادی تعلیمی مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں اختیارات کے ناجائز استعمال کو فروغ ملتا ہے اور متاثرہ افراد شکایت درج کرانے سے ہچکچاتے ہیں۔

خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنا سنگین اور غیر قانونی عمل قرار

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ مرد ساتھیوں کی جانب سے خواتین اساتذہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانا ایک سنگین جرم اور غیر قانونی عمل ہے، جو قانون، اخلاقیات، انسانی وقار اور محفوظ دفتری ماحول کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بیٹی بچاؤ! سوالیہ نشان بن گیا، بی جے پی دورِ میں خواتین کیخلاف جرائم میں اضافہ

عدالت نے زور دیا کہ ہر تعلیمی ادارہ واضح اینٹی ہراسانی پالیسی اختیار کرے اور ایسا مؤثر شکایتی نظام قائم کرے جس کے ذریعے شکایات براہِ راست اعلیٰ حکام تک پہنچ سکیں۔

ہر ادارے میں انکوائری کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام تعلیمی ادارے اندرونی انکوائری کمیٹیاں تشکیل دیں تاکہ خواتین اساتذہ ہراسانی سے متعلق اپنی شکایات بلا خوف و خطر براہِ راست درج کرا سکیں اور ان پر شفاف کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

محکمانہ سزا بحال، اپیل مسترد

عدالت نے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 5 سالہ سروس ضبط کرنے کی محکمانہ سزا بحال کر دی، جبکہ اپیل کو مقررہ قانونی مدت گزر جانے کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔

فیصلے پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات

سپریم کورٹ نے فیصلے کی نقول وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز تعلیم اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ ہراسانی کے خلاف مؤثر اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں:مودی سرکارکا بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ، سی آر پی ایف اہلکار نے اپنی ہی ساتھی خاتون افسر کو قتل کردیا

عدالت نے وزارت تعلیم کو بھی حکم دیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطۂ اخلاق نمایاں مقام پر آویزاں کیا جائے۔

کن رویوں کو ہراسانی قرار دیا گیا؟

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ نامناسب جملے، جنسی نوعیت کے اشارے یا مذاق، نازیبا پیغامات، سڑک یا کام کی جگہ پر آوازیں کسنا، ملازمت یا ترقی کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات، ناپسندیدہ جسمانی رابطہ اور خوف یا عدم تحفظ پر مبنی دفتری ماحول پیدا کرنا ایسے تمام غیر قانونی افعال ہیں جو ملازمین کے وقار اور تحفظ کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

فیصلہ فیصل آباد کے ہراسانی کیس میں جاری کیا گیا

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ فیصل آباد کے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر میں گریڈ 17 کے ایک افسر کے خلاف خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔

Related Articles