سینئر صحافی عرفان خان نے اپنے وی لاگ میں خیبر پختونخوا کے ایک ایسے مبینہ کرپشن اسکینڈل کو منظرعام پر لایا ہے، جس کی مالیت چار ارب 90 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
عرفان خان کے مطابق سرکاری دستاویزات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس معاملے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کی تلاش اور نکاسی کے ٹھیکے کن کمپنیوں کو دیے گئے۔
پشاور ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود یہ لیزیں کیوں جاری کی گئیں، قومی احتساب بیورو (نیب) نے تحقیقات کیوں شروع کیں، تحقیقات کس مرحلے میں ہیں، کن افراد کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت نے اس حوالے سے کیا اقدامات کیے۔
سینئر صحافی عرفان خان نے مزید کہا کہ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد 17 جولائی 2025 کو نیب نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ نیب نے محکمہ معدنیات سے تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب پشاور ہائی کورٹ اس معاملے پر اسٹے آرڈر جاری کر چکی تھی تو اس کے باوجود چار ارب 90 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے لیز معاہدے کس بنیاد پر کیے گئے۔
پس منظر
خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سونے کے ذخائر کی تلاش اور نکاسی کے لیے محکمہ معدنیات مختلف بلاکس کی نیلامی کے ذریعے لیز جاری کرتا ہے۔
2012 سے 2015 کے دوران ان علاقوں کا ایک جامع جیولوجیکل سروے کیا گیا، جس میں ان مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں سونے کے ذخائر موجود ہونے کے امکانات زیادہ تھے۔ اسی سروے کی بنیاد پر حکومت نے ہر بلاک کی ریزرو قیمت مقرر کی، جس کے بعد کھلی نیلامی کے ذریعے مختلف کمپنیوں کو لیز دی گئی۔
کن کمپنیوں کو کتنے کے ٹھیکے ملے؟
دریائے سندھ، ضلع صوابی میں واقع بلاک (اے) ایم ایس بلو پاکور میٹلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ایک ارب 25 کروڑ روپے میں دیا گیا۔
دریائے سندھ، ضلع صوابی کے بلاک (بی) کی لیز ایم ایس مچکو پرائیویٹ لمیٹڈ کو ایک ارب 24 کروڑ 10 لاکھ روپے میں دی گئی۔
دریائے سندھ کے اضلاع نوشہرہ اور کوہاٹ پر مشتمل بلاک (سی) ایم ایس ہمالیہ ارتھ ایکسپلوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں الاٹ کیا گیا۔
دریائے سندھ، ضلع کوہاٹ کے بلاک (ڈی) کی لیز ایم ایس شکردرہ منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ایک ارب 11 کروڑ 10 لاکھ روپے میں دی گئی۔
ان چاروں بلاکس کے لیز معاہدوں کی مجموعی مالیت چار ارب 90 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
تنازع کیسے پیدا ہوا؟
ان لیزوں کے خلاف اعتراضات سامنے آنے پر پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا۔ بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا کہ جب عدالت نے کارروائی روکنے کا حکم دے رکھا تھا تو اس کے باوجود لیز معاہدے کیسے جاری کیے گئے۔
بعد ازاں 17 جولائی 2025 کو نیب نے بھی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے محکمہ معدنیات سے تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا۔
نیب کی ابتدائی تحقیقات میں متعدد اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی اور محکمہ معدنیات سے ان تمام نکات پر وضاحت طلب کی گئی۔
نیب کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بلاکس کی ریزرو قیمتوں کے تعین کے دوران 2015 کی جیولوجیکل اسٹڈی اور 2022 کی منرل ویلیوایشن کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ اگر ایسا کیا گیا تو یہ فیصلہ کس نے کیا، اور اس میں کون سے سرکاری افسران یا دیگر متعلقہ افراد شامل تھے؟
تحقیقات میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ فروری 2022 میں تیار کی گئی جیولوجیکل سروے اسٹڈی کو نومبر 2022 میں روک دیا گیا، جس کے باعث سونے کے ذخائر کے درست تخمینے پر اثر پڑا۔ نیب یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس اہم تکنیکی عمل کو کیوں روکا گیا اور اس سے کس کو فائدہ پہنچا۔
نیب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 2020، 2021 اور 2022 کی ناکام نیلامیوں کی تشہیر غیر معیاری اور ناکافی تھی، جس کے باعث مقابلے کا عمل محدود رہا اور ممکنہ طور پر حکومت بہتر مالی فوائد حاصل کرنے سے محروم رہی۔
مزید یہ کہ نیب کے مطابق لائسنسنگ اتھارٹی نے کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ مقررہ مدت میں معاہدے مکمل نہ ہونے کے باوجود 13 نومبر 2024 کو الاٹمنٹ لیٹر جاری کر دیے۔ تحقیقات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جب قانونی تقاضے مکمل نہیں ہوئے تھے تو الاٹمنٹ لیٹر کس اختیار کے تحت جاری کیے گئے۔
تحقیقات میں ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود بعض لیز ہولڈرز کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد لیز ہولڈرز نے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (انوائرمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ) اور مائننگ پلان بھی جمع نہیں کرایا، حالانکہ یہ دونوں دستاویزات قانونی طور پر لازمی تھیں۔
نیب کی دستاویزات کے مطابق ان علاقوں میں ڈیڑھ ہزار سے زائد ایکسکیویٹرز مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر کام کرتے پائے گئے، جس سے یہ خدشات مزید مضبوط ہوئے کہ معدنی وسائل کی نکاسی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہو رہی تھیں۔
تحقیقات کے دوران یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ بعض لیزیں مبینہ طور پر من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے دی گئیں، معدنی وسائل کے درست تخمینے کو نظر انداز کیا گیا اور عوامی مفاد کے بجائے مخصوص مفادات کو ترجیح دی گئی۔ انہی نکات کی بنیاد پر پورے عمل پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نیب کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چار ارب 90 کروڑ روپے مالیت کے ان لیز معاہدوں کی حقیقی معاشی اہمیت اس رقم سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اس معاملے میں چند سیاسی شخصیات اور بعض سرکاری افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر نیب کی جانب سے کسی فرد کے خلاف نہ تو کوئی حتمی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور نہ ہی کسی جرم کو ثابت کیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کا عمل بدستور جاری ہے۔