خیبر پختونخوا کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم،حکومت کی شاہ خرچیاں ،سرکاری تفریح کے لیےکروڑوں روپے مختص

خیبر پختونخوا  کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم،حکومت کی شاہ خرچیاں ،سرکاری تفریح کے لیےکروڑوں روپے مختص

ایک جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری دفاتر کی تفریح، مہمان نوازی اور تحائف کی مد میں کروڑوں روپے مختص کر دئیے ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری دفاتر میں تفریحی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 35 کروڑ 11 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ مالی سال میں اسی مد کے لیے 27 کروڑ روپے رکھے گئے تھے، تاہم مالی سال کے اختتام تک یہ اخراجات بڑھ کر 43 کروڑ 36 لاکھ روپے تک پہنچ گئے، جس سے بجٹ تخمینوں اور حقیقی اخراجات کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔

دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ رقم محکمہ خزانہ نے تفریح اور مہمان نوازی پر خرچ کی گزشتہ مالی سال میں صرف محکمہ خزانہ کے تفریحی اخراجات 11 کروڑ62 لاکھ روپے تک جا پہنچے جو دیگر محکموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا حکومت کا تین ماہ کا عبوری بجٹ لانے پر غور،وجہ سامنے آ گئی

نئے مالی سال کے لیے تحائف اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کی مد میں 10 کروڑ 5 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی کے لیے 6 کروڑ روپے جبکہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے لیے ایک کروڑ80 لاکھ روپے اسی نوعیت کے اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔

دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں صرف تحائف اور تفریحی اخراجات پر تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس کے بعد موجودہ بجٹ میں بھی اسی نوعیت کی مدات کے لیے خطیر رقوم مختص کیے جانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

جب صوبہ مالی دباؤ، قرضوں، مہنگائی اور محدود وسائل جیسے مسائل سے دوچار ہو تو حکومتی اخراجات کی ترجیحات غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں،عوام کی اولین ضرورت صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور دیگر عوامی خدمات ہیں، اس لیے ایسے حالات میں سرکاری مہمان نوازی اور تفریحی اخراجات میں اضافے پر لازماً عوامی توجہ مرکوز ہوگی۔

اگر گزشتہ سال مختص بجٹ سے کہیں زیادہ رقم خرچ ہوئی تو اس بات کی وضاحت ہونی چاہیے کہ اضافی اخراجات کن سرگرمیوں پر کیے گئے اور ان سے عوام کو کیا عملی فائدہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت اور پیپلزپارٹی کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو، بجٹ کی منظوری کے لیے گرین سگنل

صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے مشکل معاشی حالات میں کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے ہوئے غیر ضروری اخراجات کم کرنے چاہییں تاکہ زیادہ وسائل عوامی فلاح اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر صرف کیے جا سکیں۔

صوبائی بجٹ میں تفریح، مہمان نوازی اور تحائف کی مد میں مختص اور خرچ ہونے والی یہ رقوم اب سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکی ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ جب عام آدمی بنیادی سہولیات کے لیے پریشان ہے تو سرکاری دفاتر کی تفریح اور مہمان نوازی پر کروڑوں روپے خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ۔

editor

Related Articles