امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف رواں ہفتے حملوں کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب ایرانی پاسداران انقلاب پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز کو مبینہ حملے کے نتیجے میں نقصان پہنچا، جس کے باعث جہاز میں آگ لگ گئی اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، امریکی حکام کے مطابق جہاز کا ایک شہری عملہ رکن لاپتا ہے جبکہ جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ کے جنوبی ایران پر فضائی حملے ، مخصوص اہداف کو نشانہ بنایاگیا، سینٹ کام کی تصدیق
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے معاملے میں پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا اور اسے صورتحال بہتر بنانے کا موقع دیا گیا، تاہم ایران نے اس پر عمل نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شہری بحری جہازوں اور تجارتی راستوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا،امریکی کمانڈ کے مطابق یہ حملے امریکی صدر کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔
At 7:15 p.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching the third round of strikes this week against Iran after Islamic Revolutionary Guard Corps forces blatantly attacked M/V GFS Galaxy, a Cyprus-flagged container ship transiting the Strait of Hormuz. A civilian crew…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 11, 2026

