وفاقی حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی 31-2026 کے اعلان میں تاخیر اور مالیاتی بجٹ 27-2026 میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) 8.5 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کردیا جس کے بعد جولائی 2026 کے آغاز سے انڈس موٹر اور ہونڈا اٹلس سمیت دیگر بڑی کار ساز کمپنیوں نے پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 13 لاکھ روپے سے زیادہ کا بڑا اضافہ کر دیا ہے جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی فروخت شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
نئی آٹو پالیسی میں تاخیر اور قیمتوں کا دھماکہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں سابقہ آٹو پالیسی 26-2021 کی مدت 30 جون کو ختم ہونے کے باوجود حکومت تاحال نئی آٹو پالیسی 31-2026 کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اس پالیسی خلا اور نئے وفاقی بجٹ میں ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں ساڑھے 16 فیصد کے بھاری اضافے نے آٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی اسمبلرز نے ٹیکسوں کا اضافی بوجھ فوری طور پر صارفین پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ٹویوٹا اور ہونڈا کی قیمتوں میں بھاری اضافہ
انڈس موٹر کمپنی نے ٹویوٹا کرولا کراس ہائبرڈ کے 2 ماڈلز کی قیمتوں میں بالترتیب 13 لاکھ 64 ہزار اور 13 لاکھ 14 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی نئی قیمتیں 10.299 ملین (ایک کروڑ 2 لاکھ 99 ہزار) روپے اور 9.849 ملین روپے ہو گئی ہیں۔
اسی طرح ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ نے بھی اپنے ہائبرڈ ماڈل ایچ آر۔وی کی قیمت میں 13 لاکھ 70 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ گاڑی اب 10.369 ملین روپے کی ہو گئی ہے۔
گاڑیوں کی ڈلیوری اور انوائسنگ معطل
رپورٹس کے مطابق کئی دوسری کمپنیوں، جنہوں نے اب تک قیمتیں نہیں بڑھائیں، انہوں نے ہائبرڈ گاڑیوں کی انوائسنگ اور صارفین کو ڈلیوریز عارضی طور پر روک دی ہے۔
آٹو ڈیلرز کا کہنا ہے کہ یہ اسمبلرز حکومت کی جانب سے نئی آٹو پالیسی میں کسی ممکنہ ریلیف یا جی ایس ٹی میں کمی کی امید لگا کر بیٹھے ہیں، اسی لیے وہ فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون کو بجٹ تقریب میں واضح کیا تھا کہ نئی آٹو پالیسی پر وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
تاہم حکومت نے الیکٹرک بائیکس، تھری وہیلرز اور کاروں کے سی کے ڈی (کمپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن) کٹس کی درآمد پر مراعات میں 30 جون 2027 تک توسیع کی ہے۔
دوسری جانب نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت ایس آر او 1064 جاری کر کے ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ حد 50 فیصد سے گھٹا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے امپورٹڈ بڑی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر ڈیوٹی کم ہوئی ہے۔
ماحول دوست گاڑیوں کا سفر اور پالیسی تسلسل
پاکستان نے گزشتہ آٹو پالیسی 26-2021 کے تحت ملک میں ایندھن کی بچت کرنے والی ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ کو فروغ دینے کے لیے ٹیکسوں میں غیر معمولی چھوٹ دی تھی، جس کی وجہ سے ٹویوٹا اور ہونڈا جیسے اداروں نے پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے ہائبرڈ پلانٹس لگائے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر محض 8.5 فیصد جی ایس ٹی کی وجہ سے صارفین کا رجحان ان گاڑیوں کی طرف تیزی سے بڑھا تھا۔ تاہم، مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں اچانک ٹیکس بڑھانے اور وقت پر اگلی 5 سالہ آٹو پالیسی نہ لانے سے انڈسٹری کا تسلسل شدید متاثر ہوا ہے۔
بجٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کا 25 فیصد تک پہنچنا حکومت کے اپنے ہی ماحول دوست اور کم ایندھن جلانے والی گاڑیوں کے فروغ کے نظریے کے متصادم نظر آتا ہے۔
ایک طرف حکومت درآمدی پیٹرولیم بل کم کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف ہائبرڈ گاڑیوں کو مہنگا کر کے صارفین کو دوبارہ روایتی پیٹرول گاڑیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ٹیرف میں کی جانے والی کٹوتیاں (سی کے ڈی کٹس پر کسٹمز ڈیوٹی 50-100 فیصد سے کم کر کے 30-50 فیصد کرنا) مقامی اسمبلرز کے لیے زیادہ سود مند نہیں ہوں گی کیونکہ وہ پہلے ہی رعایتی ایس آر او 656 کے تحت 30 فیصد ڈیوٹی پر کام کر رہے ہیں۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ گاڑیوں کی مانگ میں شدید کمی ائے گی، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی بندش اور بے روزگاری کا نیا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے۔