امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا اہم فیصلہ

امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا اہم فیصلہ

امریکا نے 6 ممالک کے تارکین وطن کے لیے ورک پرمٹ کی مدت میں توسیع کردی ہے۔

امریکا میں عارضی تحفظ (Temporary Protected Status) کے تحت مقیم لاکھوں تارکین وطن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے ورک پرمٹ کی مدت میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ان پرمٹس کی معیاد ختم ہونے میں صرف چند گھنٹے باقی تھے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہیٹی سمیت چھ دیگر ممالک کے ان شہریوں کے ورک پرمٹس کی مدت بڑھا دی ہے جو ٹیمپریری پروٹیکٹیڈ اسٹیٹس (TPS) کے تحت امریکا میں مقیم ہیں۔

امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے مطابق ہیٹی کے شہریوں کے ورک پرمٹس اب 24 جولائی تک مؤثر رہیں گے، جبکہ ایتھوپیا، شام، صومالیہ، یمن، جنوبی سوڈان اور میانمار سے تعلق رکھنے والے افراد کے ورک پرمٹس کی معیاد ایک ہفتے بعد ختم ہوگی۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہیٹی اور شام کے شہریوں کے لیے عارضی تحفظ کا درجہ ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیمپریری پروٹیکٹیڈ اسٹیٹس ایک ایسا قانونی پروگرام ہے جو ان افراد کو امریکا میں عارضی طور پر رہنے اور قانونی طور پر ملازمت کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کے آبائی ممالک قدرتی آفات، مسلح تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات کا سامنا کر رہے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا: H-1B ویزا لاٹری ختم، ورک ویزا کیلئے نیا نظام متعارف کرنے کا اعلان

ورک پرمٹس کی مدت میں توسیع کے مطالبے میں مزدور تنظیمیں بھی پیش پیش تھیں،  ان کا مؤقف تھا کہ اگر لاکھوں افراد کے ورک پرمٹس اچانک ختم ہو جاتے تو مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہوتی، کام کی جگہوں پر بے یقینی بڑھتی اور اہم صنعتیں متاثر ہو سکتی تھیں۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امیگریشن کے خلاف سخت پالیسیوں اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جس پر انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کو اپنے اہم انتخابی وعدوں میں شامل کیا تھا، تاہم ناقدین کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے اثرات قانونی امیگریشن پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

editor

Related Articles