انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 ویں اور آخری ٹی 20 میچ میں بھارت کو عبرتناک شکست دے دی ہے، جس کے ساتھ ہی انگلش ٹیم نے 5 میچوں کی سیریز 0-4 سے اپنے نام کر لی۔
اس تاریخی اور یکطرفہ کامیابی کے بعد انگلینڈ نے آئی سی سی ٹی20 رینکنگ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کر کے بھارت سے نمبر ون کا تاج چھین لیا ہے، جبکہ بھارتی ٹیم تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔
انگلینڈ کا پہاڑ جیسا مجموعہ
سیریز کے آخری اور فیصلہ کن میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو انتہائی درست ثابت ہوا۔ انگلش بلے بازوں نے بھارتی باؤلنگ لائن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 257 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ سکور بورڈ پر سجا دیا۔
انگلینڈ کی جانب سے جوز بٹلر نے جارحانہ اور دلکش بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور محض 64 گیندوں پر 131 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔
ان کا بھرپور ساتھ کپتان ہیری بروک نے دیا جنہوں نے 45 گیندوں پر 95 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی اور ٹیم کو اس تاریخی ٹوٹل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی ٹیم کی ناکام کوشش اور شکست
258 رنز کے بڑے اور مشکل ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار نظر آئی۔ بھارتی بلے باز انگلش باؤلرز کے سامنے کھل کر نہ کھیل سکے اور مطلوبہ رن ریٹ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتے رہے۔
پوری بھارتی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 201 رنز ہی بنا سکی۔ یوں انگلینڈ نے یہ میچ بڑے مارجن سے جیت کر سیریز 4-0 سے اپنے نام کر لی۔
سیریز میں انگلینڈ کی بالادستی
اس 5 میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کی ٹیم شروع سے ہی چھائی رہی۔ سیریز کا ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا جبکہ باقی چاروں میچوں میں انگلینڈ نے کھیل کے ہر شعبے، خصوصاً بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھارت کو آؤٹ کلاس کیا۔
بھارتی ٹیم ہوم گراؤنڈ اور مضبوط مڈل آرڈر کے باوجود انگلش حکمت عملی کا توڑ نکالنے میں ناکام رہی، جس کا نتیجہ سیریز میں کلین سویپ (ایک میچ ڈرا ہونے کے باوجود) کی شکل میں نکلا۔
انگلش کرکٹ کا عروج اور بھارت کے لیے لمحہ فکریہ
اس سیریز کے نتائج اور آخری میچ کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انگلینڈ نے ٹی 20 کرکٹ کے جدید تقاضوں کو پوری طرح اپنا لیا ہے۔
جوز بٹلر اور ہیری بروک کی بیٹنگ نے ثابت کیا کہ انگلش ٹیم اب خوف کے بغیر کرکٹ کھیلنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جہاں 200 سے زیادہ کا سکور اب ان کے لیے معمولی بات بن چکا ہے۔
دوسری طرف بھارت کے لیے یہ شکست ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن سے محرومی اور باؤلنگ لائن کا اس طرح بے بس ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی ٹیم کو اپنی حکمت عملی اور ڈیتھ اوورز کی باؤلنگ پر شدید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی لائن اپ مکمل ہونے کے اس دور میں، جہاں فٹبال کی دنیا میں ارجنٹائن کا انگلینڈ اور سپین کا فرانس سے ٹاپ فور کا مقابلہ طے پا چکا ہے، کرکٹ کی دنیا میں انگلینڈ کی یہ فتح کھیل کے میدانوں میں برطانوی بالادستی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔