طویل عرصے سے تاخیر اور تنازعات کا شکار رہنے والا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ ایک بار پھر تنازعات کا شکار۔ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود سروس ایریا کے این او سی اسکینڈل کے باعث منصوبے کے افتتاح سے متعلق نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی افتتاحی تقریب کے لیے 14 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے تاہم سروس ایریا کے لیے این او سی سے متعلق سامنے آنے والے تنازع کے باعث خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ منصوبے کا افتتاح مقررہ تاریخ پر ہو بھی سکے گا یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق رنگ روڈ منصوبہ ماضی میں بھی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ سابق دور حکومت میں منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی اور روٹ میں توسیع کے معاملے پر اعتراضات سامنے آئے تھے جس کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں اور منصوبے کا کام متاثر ہوا۔
اس تنازع کے نتیجے میں ماضی میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر سمیت متعدد انتظامی افسران کو اپنے عہدوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ اب موجودہ صورتحال میں سروس ایریا این او سی معاملے نے ایک بار پھر انتظامی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے سروس ایریا کے لیے تقریباً 102 کنال 14 مرلہ اراضی مختص کی گئی ہے، جہاں رنگ روڈ کے دونوں اطراف سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم اسی سروس ایریا سے متعلق این او سی کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات نے منصوبے کی تکمیل کے آخری مرحلے کو متاثر کر دیا ہے۔
موجودہ پنجاب حکومت کی جانب سے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز مقرر کی جا چکی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دورے کے بعد منصوبے کی تکمیل کے لیے 30 دسمبر 2025، 30 مارچ 2026، 30 مئی 2026، 15 جون اور جون کے آخری ہفتے میں افتتاح سمیت مختلف اہداف مقرر کیے گئے، تاہم یہ ڈیڈ لائنز مکمل نہ ہو سکیں۔
حکام کے مطابق رنگ روڈ کا بنیادی تعمیراتی کام بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے تاہم بعض انتظامی اور قانونی معاملات اب بھی منصوبے کے افتتاح میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
راولپنڈی رنگ روڈ کو شہر میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور سفری سہولیات میں بہتری کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ شہریوں کو امید ہے کہ تمام رکاوٹیں دور کرکے منصوبے کو جلد فعال کیا جائے گا تاہم موجودہ این او سی تنازع نے ایک بار پھر اس کے افتتاح پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔