او آئی سی کا ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں سے متعلق سخت موقف سامنے آگیا

او آئی سی کا ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں سے متعلق  سخت موقف سامنے آگیا

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بحری جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی تجارت کے لیے استعمال ہونے والے بحری راستوں کی حفاظت انتہائی اہمیت رکھتی ہے جبکہ تجارتی اور شہری جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے بین الاقوامی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں عالمی امن اور معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :او آئی سی کا اسرائیل کی جانب سے ’سومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کی مذمت، فلسطین پر قرارداد منظور

اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری جہازوں پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے متصادم ہیں کیونکہ عالمی قوانین تمام ممالک کو یہ پابند بناتے ہیں کہ وہ دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کریں اور بین الاقوامی تجارت کے محفوظ راستوں کو متاثر نہ کریں۔

او آئی سی نے مزید کہا کہ خطے کے مختلف ممالک پر ہونے والے حملے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ بیان میں کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور اردن کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان ممالک کی سرزمین یا حدود کو نشانہ بنانا ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے زور دیا کہ خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران اور افغانستان کا غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ

او آئی سی کے مطابق خلیج کا خطہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے جہاں سے توانائی اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔

او آئی سی نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں امن کے قیام، تنازعات کے خاتمے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

editor

Related Articles