روس، یوکرین جنگ نے صرف انسانی زندگی اور ماحول ہی نہیں بلکہ جنگلی حیات کے رویوں پر بھی غیر متوقع اثرات مرتب کیے ہیں۔ یوکرین کے محاذِ جنگ کے قریب پرندوں نے اب حملہ آور ڈرونز میں استعمال ہونے والی فائبر آپٹک تاروں سے گھونسلے بنانا شروع کر دیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انتہائی باریک فائبر آپٹک تاریں ڈرونز کی رہنمائی کے لیے استعمال کی جاتی تھیں، تاہم جنگی علاقوں میں بکھر جانے کے بعد یہ درختوں، کھیتوں اور عمارتوں پر پھیل گئی ہیں، جہاں پرندے انہیں گھونسلے بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
کیف کے وار میوزیم سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ گھونسلے اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ نے فطرت اور جنگلی حیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔وار میوزیم کی سینئر محقق یانا ہرینکو کے مطابق فائبر آپٹک تاروں سے بنے پرندوں کے گھونسلے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید جنگ نے قدرتی ماحول کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گھاس اور جنگی سامان کے باقی ماندہ حصوں سے بنے یہ گھونسلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنگ کے درمیان بھی جنگلی حیات اپنے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔