وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے مون سون کی متوقع بارشوں کے پیش نظر تمام صوبائی حکومتوں اور ‘پی ڈی ایم ایز’ کے ساتھ اشتراک عمل کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم مشاورتی ملاقات ہوئی۔
اس ملاقات کا بنیادی ایجنڈا ملک میں مون سون کی حالیہ اور متوقع بارشوں کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔
صوبائی ہم آہنگی پر زور
وزیراعظم نے واضح کیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور ضلعی انتظامیہ کے مابین رابطوں کے نظام کو 100 فیصد فعال اور تیز رفتار بنایا جائے۔
جدید ارلی وارننگ سسٹم کا نفاذ
چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بتایا کہ پیشگی اطلاع (ارلی وارننگ) دینے والے جدید ترین سسٹم کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت، سیلابی ریلے یا شدید بارش کی صورت میں مقامی آبادی کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اشتراک
بریفنگ میں بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے سائنسی بنیادوں پر موسم کی پیشگوئی اور خطرات کے تخمینے کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
پاکستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے اثرات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایاں رہا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد، جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ متاثر کیا تھا، پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔
ماضی میں وفاقی اداروں (جیسے این ڈی ایم اے) اور صوبائی اداروں (جیسے پی ڈی ایم ایز) کے درمیان معلومات کے تبادلے اور امدادی سرگرمیوں میں تال میل کی کمی کے باعث ریلیف آپریشنز میں تاخیر دیکھی گئی تھی۔
اس بار حکومت اور متعلقہ ادارے پیشگی اقدامات کے ذریعے جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
وزیراعظم اور چیئرمین این ڈی ایم اے کی یہ ملاقات اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست اب آفات آنے کے بعد حرکت میں آنے کی روایتی روش کے بجائے ‘پریوینٹیو مینجمنٹ’ (پیشگی انتظام) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کا بروقت استعمال
‘ارلی وارننگ سسٹم’ کی فعالیت ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ اگر یہ نظام نچلی سطح (یونین کونسل اور گاؤں) تک درست معلومات پہنچانے میں کامیاب رہتا ہے، تو قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہو جائے گا۔
صوبائی ہم آہنگی کا چیلنج
وفاق کی جانب سے ہدایات جاری کرنا آسان ہے، لیکن اصل امتحان صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور ان کے پاس موجود وسائل کا ہے۔ این ڈی ایم اے کو صوبوں کے ساتھ مانیٹرنگ کا ایک مشترکہ ڈیجیٹل کنٹرول روم بنانا چاہیے تاکہ زمینی صورتحال کی لائیو اپڈیٹ مل سکے۔
طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت
اگرچہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریاں قابلِ ستائش ہیں، لیکن پاکستان کو مون سون کی بارشوں کے پانی کو محفوظ (اسٹور) کرنے کے لیے ڈیموں اور واٹر چینلز کی صفائی جیسے بنیادی ڈھانچے کے مسائل پر بھی فوری توجہ دینی ہوگی، تاکہ سیلابی پانی تباہی پھیلانے کے بجائے معیشت کے کام آ سکے۔